Khalilur Rahman Raz

خلیل الرحمٰن راز

خلیل الرحمٰن راز کی غزل

    اسے کامیابی کی حاجت نہیں

    اسے کامیابی کی حاجت نہیں محبت ہے کوئی تجارت نہیں خطا‌ وار شکر و شکایت نہیں اسے بات کرنے کی عادت نہیں میں رہتا ہوں اس کے خیالوں میں گم مجھے سانس لینے کی فرصت نہیں وہ ہے رنگ خوشبو دھنک چاندنی اسے زیب و زینت کی حاجت نہیں ستم گر وہ مجھ پر ہو جب مہرباں مبارک کوئی ایسی ساعت ...

    مزید پڑھیے

    گر دل میں تبسم کا اک تیر اتر جائے

    گر دل میں تبسم کا اک تیر اتر جائے نو خاستہ غنچے کی تقدیر سنور جائے جب جب کوئی طوفاں سا اس دل سے گزر جائے وہ چہرۂ رنگیں بھی کچھ اور نکھر جائے جب دل پہ محبت کا طوفان گزر جائے شبنم سے شرر ٹپکے شعلوں سے اثر جائے دیوانہ ترے رخ کا اور موت سے ڈر جائے جس دل میں صداقت ہو ممکن نہیں مر ...

    مزید پڑھیے

    نرم شگفتہ چاندنی ہنستا ہوا کنول کہوں

    نرم شگفتہ چاندنی ہنستا ہوا کنول کہوں ایسا کوئی صنم کہاں جس کے لئے غزل کہوں چاند کو چہرۂ الم زخم کو اک کنول کہوں دل مرا چاہتا ہے آج ایسی کوئی غزل کہوں تاج محل کو مرمریں جسم کی اک غزل کہوں اپنی غزل کو نور کا اڑتا ہوا محل کہوں جگنو ہو یا ستارہ ہو اشک ہے میری آنکھ کا ماہ جبیں غزال ...

    مزید پڑھیے

    ہر شے میں نمایاں ہے جلوہ آنکھوں سے مگر مستور بھی ہے

    ہر شے میں نمایاں ہے جلوہ آنکھوں سے مگر مستور بھی ہے شہ رگ سے قریں ہے حسن ازل شہ پر سے نظر کے دور بھی ہے ہے پردہ اندر پردہ وہ اور ارض و سما کا نور بھی ہے جب یاد کرو نزدیک ہے وہ جب ڈھونڈو اس کو دور بھی ہے محدود بھی لا محدود بھی ہے آزاد بھی ہے مجبور بھی ہے فیضان نظر سے ہر ذرہ ہشیار بھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2