Khalilur Rahman Raz

خلیل الرحمٰن راز

خلیل الرحمٰن راز کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    برائے خیر شر سے برسر پیکار ہو جائے

    برائے خیر شر سے برسر پیکار ہو جائے جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے عزائم شل قویٰ مفلوج دل بیکار ہو جائے اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے جو راہ حق میں مرنے کے لیے تیار ہو جائے نظر میں اس کی بازیچہ فراز دار ہو جائے اگر شوق شہادت روح میں بیدار ہو جائے جبیں خنجر بکف ہو اور ...

    مزید پڑھیے

    وقت نے دل کی طبیعت میں وفا رکھی ہے

    وقت نے دل کی طبیعت میں وفا رکھی ہے کلفت آگہی پھر اس کی سزا رکھی ہے دل ہو پژمردہ تو ہے خندۂ گل بے معنی ہر خوشی اور غمی دل نے چھپا رکھی ہے چاک کرتی ہے صبا صبح کو غنچوں کے جگر یہ کہانی مجھے شبنم نے سنا رکھی ہے غنچہ غنچہ میں ہے پوشیدہ صلیب غم دوست کس نے پھولوں میں یہ قاتل کی ادا رکھی ...

    مزید پڑھیے

    دلبروں کے راز کا محرم ہوا

    دلبروں کے راز کا محرم ہوا درد سے دل مثل جام جم ہوا رات دن آنسو بہے ماتم ہوا درد فرقت کا نہ لیکن کم ہوا رہ گیا ہوں بن کے اک تصویر غم غم کے ہاتھوں ہائے کیا عالم ہوا زخم کھائے ایک مدت ہو گئی سوز دل لیکن نہیں مدھم ہوا درد الفت کی حسیں تشکیل میں امتزاج شعلہ و شبنم ہوا ایک اٹھنا تھا ...

    مزید پڑھیے

    روح زماں مکاں ملے راز عیاں نہاں ملے

    روح زماں مکاں ملے راز عیاں نہاں ملے کب سے ہوں گرم جستجو منزل کن فکاں ملے نادرۂ زماں ملے نابغٔہ جہاں ملے جس کو میں ڈھونڈھتا ہوں وہ نازش مہوشاں ملے نالۂ ارغواں ملے شعلۂ ارغواں ملے صاعقۂ تپاں ملے جلوۂ بے اماں ملے کاکل کہکشاں کھلے عارض لا مکاں ملے دلبر ہست و بود کا کاش کہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہر جگہ بندش آداب کی پروا نہ کریں

    ہر جگہ بندش آداب کی پروا نہ کریں محرم راز سے بہتر ہے کہ پردا نہ کریں عشق کی کہنہ روایات کو رسوا نہ کریں بات تو یہ ہے سر دار بھی لب وا نہ کریں موت بھی سامنے آ جائے تو پروا نہ کریں جاں بکف دل کو مثال دل پروانہ کریں دل پہ حرص و حسد بادیہ پیما نہ کریں اس سے بہتر ہے کہ شغل مے و پیمانہ ...

    مزید پڑھیے

تمام