گر دل میں تبسم کا اک تیر اتر جائے
گر دل میں تبسم کا اک تیر اتر جائے
نو خاستہ غنچے کی تقدیر سنور جائے
جب جب کوئی طوفاں سا اس دل سے گزر جائے
وہ چہرۂ رنگیں بھی کچھ اور نکھر جائے
جب دل پہ محبت کا طوفان گزر جائے
شبنم سے شرر ٹپکے شعلوں سے اثر جائے
دیوانہ ترے رخ کا اور موت سے ڈر جائے
جس دل میں صداقت ہو ممکن نہیں مر جائے
یہ خون محبت ہے خنجر نہ ٹھہر جائے
اک محشر بیتابی رگ رگ میں اتر جائے
یہ راہ محبت ہے جو اس سے گزر جائے
پرواہ نہیں اس کو زر جائے کہ سر جائے
الفت کی ظفر مندی اس روز میں سمجھوں گا
جب آہ مری تیرے سینے میں اتر جائے
اس دل پہ گزرتی ہے کیفیت رنگا رنگ
طوفاں سا امڈ آئے دریا سا اتر جائے
ہے خوب مگر پھر بھی وہ پیکر رنگ و بو
کچھ اور نکھر جائے کچھ اور سنور جائے
کیا طرفہ تماشا ہے فیضان محبت سے
جنت سے بشر نکلے جنت میں بشر جائے