Khalilur Rahman Raz

خلیل الرحمٰن راز

خلیل الرحمٰن راز کی غزل

    برائے خیر شر سے برسر پیکار ہو جائے

    برائے خیر شر سے برسر پیکار ہو جائے جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے عزائم شل قویٰ مفلوج دل بیکار ہو جائے اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے جو راہ حق میں مرنے کے لیے تیار ہو جائے نظر میں اس کی بازیچہ فراز دار ہو جائے اگر شوق شہادت روح میں بیدار ہو جائے جبیں خنجر بکف ہو اور ...

    مزید پڑھیے

    وقت نے دل کی طبیعت میں وفا رکھی ہے

    وقت نے دل کی طبیعت میں وفا رکھی ہے کلفت آگہی پھر اس کی سزا رکھی ہے دل ہو پژمردہ تو ہے خندۂ گل بے معنی ہر خوشی اور غمی دل نے چھپا رکھی ہے چاک کرتی ہے صبا صبح کو غنچوں کے جگر یہ کہانی مجھے شبنم نے سنا رکھی ہے غنچہ غنچہ میں ہے پوشیدہ صلیب غم دوست کس نے پھولوں میں یہ قاتل کی ادا رکھی ...

    مزید پڑھیے

    دلبروں کے راز کا محرم ہوا

    دلبروں کے راز کا محرم ہوا درد سے دل مثل جام جم ہوا رات دن آنسو بہے ماتم ہوا درد فرقت کا نہ لیکن کم ہوا رہ گیا ہوں بن کے اک تصویر غم غم کے ہاتھوں ہائے کیا عالم ہوا زخم کھائے ایک مدت ہو گئی سوز دل لیکن نہیں مدھم ہوا درد الفت کی حسیں تشکیل میں امتزاج شعلہ و شبنم ہوا ایک اٹھنا تھا ...

    مزید پڑھیے

    روح زماں مکاں ملے راز عیاں نہاں ملے

    روح زماں مکاں ملے راز عیاں نہاں ملے کب سے ہوں گرم جستجو منزل کن فکاں ملے نادرۂ زماں ملے نابغٔہ جہاں ملے جس کو میں ڈھونڈھتا ہوں وہ نازش مہوشاں ملے نالۂ ارغواں ملے شعلۂ ارغواں ملے صاعقۂ تپاں ملے جلوۂ بے اماں ملے کاکل کہکشاں کھلے عارض لا مکاں ملے دلبر ہست و بود کا کاش کہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہر جگہ بندش آداب کی پروا نہ کریں

    ہر جگہ بندش آداب کی پروا نہ کریں محرم راز سے بہتر ہے کہ پردا نہ کریں عشق کی کہنہ روایات کو رسوا نہ کریں بات تو یہ ہے سر دار بھی لب وا نہ کریں موت بھی سامنے آ جائے تو پروا نہ کریں جاں بکف دل کو مثال دل پروانہ کریں دل پہ حرص و حسد بادیہ پیما نہ کریں اس سے بہتر ہے کہ شغل مے و پیمانہ ...

    مزید پڑھیے

    سچ ہے غم فراق میں ہم رو نہیں سکے

    سچ ہے غم فراق میں ہم رو نہیں سکے وہ بھی تمام رات مگر سو نہیں سکے بے فائدہ ہے چاہنا اصنام سے وفا یہ سنگ دل کسی کے کبھی ہو نہیں سکے پتھر کے لوگ ہیں جہاں شیشے کے بام و در ہم اس زمیں میں درد وفا بو نہیں سکے سینے میں ایک داغ لگا اور عمر بھر دھوتے رہے وہ داغ مگر دھو نہیں سکے آداب پردہ ...

    مزید پڑھیے

    مہربانی کو تری عارض تاباں سمجھے

    مہربانی کو تری عارض تاباں سمجھے روٹھ جانے کو خم کاکل پیچاں سمجھے صبح خنداں کو مآل شب ہجراں سمجھے شب کو تنویر کا اک عکس پریشاں سمجھے زیست آشفتگیٔ گور غریباں سمجھے موت کو سلسلۂ عمر گریزاں سمجھے شوخ کرنوں کو دل سینہ فگاراں سمجھے کہکشاؤں کو حسیں شہر نگاراں سمجھے حرم و دیر نہ ...

    مزید پڑھیے

    نہ نظر کی دیدہ وری رہی نہ جگر کی بے جگری رہی

    نہ نظر کی دیدہ وری رہی نہ جگر کی بے جگری رہی مگر اہل دعویٔ شوق سے تری برہم ناز بھری رہی کبھی جاگ اٹھا کبھی سو گیا کبھی کھل اٹھا کبھی کھو گیا دل مست جام جمال کو نہ خبر نہ بے خبری رہی یہ عجب ہوس کا دیار ہے یہاں عام انا کا خمار ہے مجھے اپنے صحرا سے پیار ہے مجھے راس دربدری رہی نہ دل و ...

    مزید پڑھیے

    مہر‌‌ و ماہ و انجم کا کچھ نشاں نہیں ملتا

    مہر‌‌ و ماہ و انجم کا کچھ نشاں نہیں ملتا اڑ رہا ہوں برسوں سے آسماں نہیں ملتا روشنی کا امکاں بھی اب یہاں نہیں ملتا اکا دکا جگنو بھی ضو فشاں نہیں ملتا تن پہ سایہ کرنے کو سائباں تو ملتا ہے روح کے سلانے کو آشیاں نہیں ملتا دل کی روشنی لے کر دلبر ازل کو میں ڈھونڈھتا ہوں مدت سے اور ...

    مزید پڑھیے

    برسوں اشکوں سے وضو کا سلسلہ کرتے رہے

    برسوں اشکوں سے وضو کا سلسلہ کرتے رہے ہم نماز زندگی یوں بھی ادا کرتے رہے ہم برابر دوستی کا حق ادا کرتے رہے اور وہ روزانہ اک فتنہ کھڑا کرتے رہے ہم بیاں رو رو کے دل کا مدعا کرتے رہے اہل محفل مسکرا کر واہ وا کرتے رہے کیا بتائیں زندگانی عشق کی کیسے کٹی وہ جفا کرتے رہے اور ہم وفا کرتے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2