برائے خیر شر سے برسر پیکار ہو جائے
برائے خیر شر سے برسر پیکار ہو جائے
جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے
عزائم شل قویٰ مفلوج دل بیکار ہو جائے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
جو راہ حق میں مرنے کے لیے تیار ہو جائے
نظر میں اس کی بازیچہ فراز دار ہو جائے
اگر شوق شہادت روح میں بیدار ہو جائے
جبیں خنجر بکف ہو اور نظر تلوار ہو جائے
عنایت کی نظر دل پر شۂ ابرار ہو جائے
مرا تاریک کاشانہ تجلی زار ہو جائے
وہ دل جس کو خیال مرسل مختار ہو جائے
تجلی گاہ رحمت مطلع انوار ہو جائے
قیامت کیا ہے اے مولیٰ قیامت سے اگر پہلے
ہمارا اور ان کا سامنا اک بار ہو جائے
تنفس مشک افشاں ہے تکلم برق جنباں ہے
تبسم ہے کہ گویا نور کی یلغار ہو جائے
سیاست ہے یہ دل کی کیا خبر اہل سیاست کو
کہ کیوں کر پردۂ انکار میں اقرار ہو جائے
یہ دنیا ہے نہ ہو نازاں نہیں تو با خبر ناداں
یہ یوسف کے لیے کب مصر کا بازار ہو جائے
گزرنا ہے مہ کنعاں کو اک دن چاہ کنعاں سے
جمال اب پھر برائے امتحاں تیار ہو جائے
زمانے کی قیادت پاؤں چومے گی ترے واعظ
اگر گفتار کے ڈھب پر ترا کردار ہو جائے
سپرد خاک کرتے ہیں شہید عشق کو یا رب
یہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہو جائے
سنائے گا کہاں تک قصۂ غم رازؔ رہنے دے
یہ غم ڈر ہے کہیں دوش فلک پر بار ہو جائے