Khalid Raheem

خالد رحیم

خالد رحیم کی غزل

    کب پیڑ کی مانند ٹھہرتے ہیں مسافر

    کب پیڑ کی مانند ٹھہرتے ہیں مسافر سورج کو لیے ساتھ گزرتے ہیں مسافر یوں خوف فسادات سے چپکا ہے زمانہ اب شہر میں آنے سے بھی ڈرتے ہیں مسافر تاریکئ شب کاہکشاں مانگ رہی ہے پھر رات کے پہلو میں سنورتے ہیں مسافر گھر سے تو نکل آئے ہیں جذبات کی رو میں نیرنگئ حالات سے ڈرتے ہیں مسافر ساحل ...

    مزید پڑھیے

    ابھی روشن ہوئی ہیں میرے گھر کی بتیاں مجھ سے

    ابھی روشن ہوئی ہیں میرے گھر کی بتیاں مجھ سے ہوا پھر لے نہ جائے چھین کر پرچھائیاں مجھ سے کروں آنکھوں سے نم مٹی خلاؤں پھول رستے میں تقاضا کر رہی ہیں خواہشوں کی بستیاں مجھ سے یہ روز و شب کے ہنگامے در و دیوار کے اندر بتاؤں کیا سلجھتی ہی نہیں اب گتھیاں مجھ سے کسی سے مسکرا کر بات کر ...

    مزید پڑھیے

    وہ شخص کون تھا مڑ مڑ کے دیکھتا تھا مجھے

    وہ شخص کون تھا مڑ مڑ کے دیکھتا تھا مجھے اکیلا بیٹھ کے پہروں جو سوچتا تھا مجھے میں اس کے پاس سے گزرا تو یہ ہوا محسوس وہ دھوپ سر پہ لیے چھاؤں دے رہا تھا مجھے الٹ رہا تھا مری زندگی کے وہ اوراق کسی کتاب کی مانند پڑھ رہا تھا مجھے اسی میں دیکھ رہا تھا میں اپنا عکس خیال وہ ایک چہرہ کہ ...

    مزید پڑھیے

    حصار گرد میں تنہا کھڑا ہوں

    حصار گرد میں تنہا کھڑا ہوں میں اپنی خواہشوں کا سلسلہ ہوں خلا کی وسعتوں کو ناپتا ہوں غبار رہ گزر اڑتا ہوا ہوں وہ اتنا پاس ہے میرے کہ اس کو میں آنکھیں بند کرکے دیکھتا ہوں ہزاروں میل کا لمبا سفر ہے میں لمحوں میں جسے طے کر رہا ہوں یقیں آئے نہ آئے تم کو لیکن میں اپنی کھوج میں گھر سے ...

    مزید پڑھیے

    ہنس ہنس کے بولنے کی فضا کون لے گیا

    ہنس ہنس کے بولنے کی فضا کون لے گیا آنگن سے شور و غل کی صدا کون لے گیا پینے لگی ہیں زہر تفکر شرارتیں بچوں سے بھولے پن کی ادا کون لے گیا سچ بولنے کی ساری روایت کہاں گئی ورثے میں جو ملی تھی فضا کون لے گیا دے کے شجر شجر کو اداسی کی تیز دھوپ شاخوں سے پتیوں کی ردا کون لے گیا آسودگی کی ...

    مزید پڑھیے

    مجھے دریا کی موجوں سے بچا لے جائے گا کوئی

    مجھے دریا کی موجوں سے بچا لے جائے گا کوئی میں ایسی بوند ہوں جس کو چرا لے جائے گا کوئی بجھا کر طاق میں رکھ دے گا یہ دست سحر مجھ کو مگر جب شام آئے گی جلا لے جائے گا کوئی یہی کچھ سوچ کر اپنی حویلی چھوڑ آیا تھا اگر میں روٹھ جاؤں گا منا لے جائے گا کوئی رئیسوں کی یہ بستی ہے کھڑے ہیں راہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ شخص جو زخموں کی ردا دے کے گیا ہے

    وہ شخص جو زخموں کی ردا دے کے گیا ہے اس شہر میں جینے کی سزا دے کے گیا ہے صدیوں سے میں سناٹوں کی بستی میں کھڑا ہوں یہ کون مجھے سنگ صدا دے کے گیا ہے آیا تھا کوئی لے کے اجالوں کا صحیفہ بے نور چراغوں کو ضیا دے کے گیا ہے رستے میں شجر ہے نہ کہیں یاد کا سایہ وہ جانے مجھے کیسی دعا دے کے گیا ...

    مزید پڑھیے

    اپنی نا کردہ گناہی کا صلہ بھی رکھ لے

    اپنی نا کردہ گناہی کا صلہ بھی رکھ لے دل کے خانے میں ذرا خوف خدا بھی رکھ لے تجھ کو لے جائے گی سناٹے میں اک روز حیات اپنے کانوں کے لیے سنگ صدا بھی رکھ لے بجھ نہ جائے کہیں احساس کے شعلوں کا مزاج منجمد وقت ہے تھوڑی سی ہوا بھی رکھ لے فاصلہ اور بڑھا دے گی انا کی دہلیز درمیاں زینۂ ...

    مزید پڑھیے

    اجنبی شہر میں پہنچوں تو شناسا دیکھوں

    اجنبی شہر میں پہنچوں تو شناسا دیکھوں دوسرا کوئی نہیں بس ترا چہرہ دیکھوں ہر طرف ایک سا منظر نظر آتا ہے مجھے دشت و صحرا کی طرف جاؤں کہ دریا دیکھوں اپنے چہرے کی بھی پہچان ہے مشکل اب تو آئنہ لے کے جو دیکھوں تو بھلا کیا دیکھوں گھر کی رونق تو اٹھا لے گیا جانے والا کیوں نہ بکھرے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    راتوں کو جاگنے کی سزا بن کے رہ گیا

    راتوں کو جاگنے کی سزا بن کے رہ گیا میں تیری آرزو میں دعا بن کے رہ گیا اک بازگشت میرا مقدر بنی رہی میں گنبدوں کے بیچ صدا بن کے رہ گیا ہر گام تشنگی کا سفر تھا مرے لیے گھر سے چلا تو دشت بلا بن کے رہ گیا ملنے کی آرزو نے جلایا تمام رات میں تیری رہ گزر پہ دیا بن کے رہ گیا گم صم کھڑی تھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2