حصار گرد میں تنہا کھڑا ہوں

حصار گرد میں تنہا کھڑا ہوں
میں اپنی خواہشوں کا سلسلہ ہوں


خلا کی وسعتوں کو ناپتا ہوں
غبار رہ گزر اڑتا ہوا ہوں


وہ اتنا پاس ہے میرے کہ اس کو
میں آنکھیں بند کرکے دیکھتا ہوں


ہزاروں میل کا لمبا سفر ہے
میں لمحوں میں جسے طے کر رہا ہوں


یقیں آئے نہ آئے تم کو لیکن
میں اپنی کھوج میں گھر سے چلا ہوں


مرے بارے میں وہ بھی سوچتا ہے
خدا کا شکر میں بھی جی رہا ہوں


یہ کس کی یاد نے کی ضو فشانی
سفر میں جگنوؤں کو دیکھتا ہوں


کوئی شاداب موسم آئے مجھ تک
میں سوکھا پیڑ رستے پر کھڑا ہوں


مہکتے پھول کی خواہش میں خالدؔ
میں تنہائی کا موسم جھیلتا ہوں