Khalid Raheem

خالد رحیم

خالد رحیم کی غزل

    ساون کا مہینہ بھی ہے بارش بھی نہیں ہے

    ساون کا مہینہ بھی ہے بارش بھی نہیں ہے سوکھے ہوئے کھیتوں پہ نوازش بھی نہیں ہے اب سر بہ گریباں ہے مرے شہر کا موسم احباب بھی خاموش ہیں سازش بھی نہیں ہے ہر موڑ پہ ملتی ہیں تحیر کی لکیریں پہلے کی طرح طرز نگارش بھی نہیں ہے ہر گام پہ طوفاں کا تسلسل ہے مرے ساتھ پیروں میں ابھی تک مرے ...

    مزید پڑھیے

    تاریک زندگی کو بنانے لگا ہے وہ

    تاریک زندگی کو بنانے لگا ہے وہ سورج سے روشنی کو چرانے لگا ہے وہ لکھ لکھ کے میرے نام اذیت کے دشت و در جاگیر میرے غم کی بڑھانے لگا ہے وہ احساس کی صلیب لیے چل رہا ہوں میں دشت جنوں میں شور مچانے لگا ہے وہ مجھ سے ہی لے کے میرے سلیقے کی روشنی تہذیب کی زبان سکھانے لگا ہے وہ تخلیق ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2