ساون کا مہینہ بھی ہے بارش بھی نہیں ہے
ساون کا مہینہ بھی ہے بارش بھی نہیں ہے سوکھے ہوئے کھیتوں پہ نوازش بھی نہیں ہے اب سر بہ گریباں ہے مرے شہر کا موسم احباب بھی خاموش ہیں سازش بھی نہیں ہے ہر موڑ پہ ملتی ہیں تحیر کی لکیریں پہلے کی طرح طرز نگارش بھی نہیں ہے ہر گام پہ طوفاں کا تسلسل ہے مرے ساتھ پیروں میں ابھی تک مرے ...