کب پیڑ کی مانند ٹھہرتے ہیں مسافر
کب پیڑ کی مانند ٹھہرتے ہیں مسافر
سورج کو لیے ساتھ گزرتے ہیں مسافر
یوں خوف فسادات سے چپکا ہے زمانہ
اب شہر میں آنے سے بھی ڈرتے ہیں مسافر
تاریکئ شب کاہکشاں مانگ رہی ہے
پھر رات کے پہلو میں سنورتے ہیں مسافر
گھر سے تو نکل آئے ہیں جذبات کی رو میں
نیرنگئ حالات سے ڈرتے ہیں مسافر
ساحل کا تجسس ہے جنوں خیز ہے منظر
گرداب میں ہنس ہنس کے اترتے ہیں مسافر
میں ایک سمندر ہوں تہہ آب مجھے دیکھ
مجھ سے ہی گہر لے کے ابھرتے ہیں مسافر
ہمت نہ کبھی ہار نہ مایوس ہو خالدؔ
کوشش کی بدولت ہی سنورتے ہیں مسافر