Khalid Naiyer

خالد نیر

  • 1979

خالد نیر کی غزل

    پاس آ کر دفعتاً جب دور ہو جائے کوئی

    پاس آ کر دفعتاً جب دور ہو جائے کوئی ہائے وہ عالم کہ یوں رنجور ہو جائے کوئی خودکشی کے واسطے گھر سے نکل پڑتا ہے وہ جب کبھی حالات سے مجبور ہو جائے کوئی یہ علامت اس کے اپنے ظرف کی پہچان ہے بھول کر اوقات جب مغرور ہو جائے کوئی یہ سراپا گل بدن تو مے کدہ جیسا لگے دیکھ کر آنکھیں تری ...

    مزید پڑھیے

    المیہ ایسا بھی ہو جاتا ہے منزل کے قریب

    المیہ ایسا بھی ہو جاتا ہے منزل کے قریب ڈوب جاتا ہے سفینہ آ کے ساحل کے قریب ہم ہی سلجھائیں گے آخر مشکلوں کی گتھیاں ہاں ہمیں لے جائیے مشکل سے مشکل کے قریب ہر گھڑی ہر لمحہ ہر پل سوچتا رہتا ہوں میں دل ہے غم کے پاس یا غم ہے مرے دل کے قریب موت نے بھی رشک سے دیکھا تھا میرے عزم کو کتنی بے ...

    مزید پڑھیے

    روشنی کے زخم کھانا کیا یہی ہے زندگی

    روشنی کے زخم کھانا کیا یہی ہے زندگی تیرگی میں دل جلانا کیا یہی ہے زندگی ہجر کی راتوں میں اکثر اہتمام آرزو خواب پلکوں پر سجانا کیا یہی ہے زندگی حسرتوں کی آگ میں جلنا مسلسل عشق میں پتھروں پر گل کھلانا کیا یہی ہے زندگی سر ہتھیلی پر لئے گھر سے نکلنا روز و شب موت سے آنکھیں ملانا ...

    مزید پڑھیے

    آنکھ کو نمناک کر جاتا ہے اکثر ان دنوں

    آنکھ کو نمناک کر جاتا ہے اکثر ان دنوں آپ سے مل کر بچھڑ جانے کا منظر ان دنوں ہم اسیر زلف جاناں ہجر کے مارے سہی روشنی کرتے ہیں اکثر دل جلا کر ان دنوں ساس کے طعنوں سے جل کر مر گئی کوئی بہو تذکرہ مفلس کی بیٹی کا ہے گھر گھر ان دنوں کچھ تمہاری بے وفائی سے بھی دل گھائل ہوا کچھ تو اپنا ...

    مزید پڑھیے