المیہ ایسا بھی ہو جاتا ہے منزل کے قریب

المیہ ایسا بھی ہو جاتا ہے منزل کے قریب
ڈوب جاتا ہے سفینہ آ کے ساحل کے قریب


ہم ہی سلجھائیں گے آخر مشکلوں کی گتھیاں
ہاں ہمیں لے جائیے مشکل سے مشکل کے قریب


ہر گھڑی ہر لمحہ ہر پل سوچتا رہتا ہوں میں
دل ہے غم کے پاس یا غم ہے مرے دل کے قریب


موت نے بھی رشک سے دیکھا تھا میرے عزم کو
کتنی بے باکی سے میں بیٹھا تھا قاتل کے قریب


آبلہ پائی سے نیرؔ میں ہراساں تو نہیں
رفتہ رفتہ آ ہی جاؤں گا میں منزل کے قریب