آنکھ کو نمناک کر جاتا ہے اکثر ان دنوں

آنکھ کو نمناک کر جاتا ہے اکثر ان دنوں
آپ سے مل کر بچھڑ جانے کا منظر ان دنوں


ہم اسیر زلف جاناں ہجر کے مارے سہی
روشنی کرتے ہیں اکثر دل جلا کر ان دنوں


ساس کے طعنوں سے جل کر مر گئی کوئی بہو
تذکرہ مفلس کی بیٹی کا ہے گھر گھر ان دنوں


کچھ تمہاری بے وفائی سے بھی دل گھائل ہوا
کچھ تو اپنا بھی ہے برگشتہ مقدر ان دنوں


کانچ کے محلوں میں وہ رہتے تو ہیں نیرؔ مگر
اپنے ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں پتھر ان دنوں