روشنی کے زخم کھانا کیا یہی ہے زندگی

روشنی کے زخم کھانا کیا یہی ہے زندگی
تیرگی میں دل جلانا کیا یہی ہے زندگی


ہجر کی راتوں میں اکثر اہتمام آرزو
خواب پلکوں پر سجانا کیا یہی ہے زندگی


حسرتوں کی آگ میں جلنا مسلسل عشق میں
پتھروں پر گل کھلانا کیا یہی ہے زندگی


سر ہتھیلی پر لئے گھر سے نکلنا روز و شب
موت سے آنکھیں ملانا کیا یہی ہے زندگی


بے کسی لاچارگی افسردگی نیرؔ کبھی
پاس آنا روٹھ جانا کیا یہی ہے زندگی