ایک پاگل کی عید

سنا ہے عید آئی تھی
سنا ہے میری مٹی کو وطن لایا گیا اس دن
سنا ہے میرے اعضا نے اداکاری بہت اچھی طرح کی تھی
نظر نے چاند بھی دیکھا
زباں نے ساری دنیا کو مبارک بادیاں بھی دیں
بدن نے صبح دم اٹھ کر نہایا بھی
نئے کپڑے بھی پہنے عطر مل کر عید گہہ جا کر دوگانہ بھی ادا کر لی
گلے نے بھی گلے ملنے کا اک دستور دیرینہ بہت جم کر نبھایا تھا
سوئیاں شیر کھانے ملنے جلنے عید کی خوشیاں منانے کی سبھی رسمیں ادا کی تھیں
مگر یہ کون پاگل ہے
مری مٹی کے اندر سسکیاں بھرتا ہوا پاگل
عجب حسرت سے کہتا ہے کہ عید آئی نہیں اب تک