آخری نیند

یہ رات بھر کون میری آنکھوں میں جاگتا ہے
یہ کس کی آہٹ کی جستجو میں تمام رستے ملول و بے خواب ہو گئے ہیں
ابد کے دربان نے امیدوں کے در پہ تالا لگا دیا ہے
یہ میری راتیں یہ میری آنکھیں یہ میرے آنسو کئی کئی ماہ کے مسلسل جگے ہوئے ہیں
میں تھک چکا ہوں
سو اے مرے گھر کے سارے دروازو اور دریچو
سنو اگر وہ کبھی بھی آئے تو دھیان رکھنا
مجھے بہت نیند آ رہی ہے
میں اب کے سویا تو پھر کبھی بھی نہیں جگوں گا