Khalid Karrar

خالد کرار

نئی نسل کے اہم شاعر

Prominent poet of younger generation.

خالد کرار کی نظم

    نو مینس لینڈ

    مجھے بتا کر کہ میری سمت سفر کہاں ہے کئی خزانوں کے بے نشان نقشے مجھے تھما کر کہا تھا اس نے کہ ساتویں در سے اور آگے تمہاری خاطر مرا وہ باب بقا کھلا ہے مگر وہاں پر تمام در وا تھے میری خاطر وہ ساتواں در کھلا نہیں تھا مگر وہاں پر کوئی بھی راز بقا نہیں تھا تمام اجسام تھے سلامت کوئی بھی ...

    مزید پڑھیے

    راون زندہ باد

    جلا رہا ہوں کئی یگوں سے میں اس کو خود ہی جلا رہا ہوں جلا رہا ہوں کہ اس کے جلنے میں جیت میری ہے مات اس کی جلا رہا ہوں بڑے سے پنڈال میں سجا کر جلا رہا ہوں مٹا رہا ہوں مگر وہ مرے ہی من کی اندھیر نگری میں جی رہا ہوں وہ میری لنکا میں اپنے پاؤں پسارے بیٹھا کئی یگوں سے مجھے مسلسل چڑا رہا ...

    مزید پڑھیے

    لہو کو زوم کرتے ہیں

    دریچے سے جہاں تک بھی نظر آتا ہے مسلسل خامشی ہے سڑک کی پیلی لکیر سر پیٹتی ہے دور تک فٹپاتھ پر روندے ہوئے سائے پول پر بجلی کے کھمبے سے لٹکتی ایک چمگادڑ صبح کا زرد چہرہ رات کے اندوہ کا احوال ایک چوپایہ اور نکڑ پر کھڑے ہو تم مسلسل خامشی ہے دریچے سے جہاں تک بھی نظر آتا ہے مسلسل خامشی ...

    مزید پڑھیے

    اصل میں یہ دشت تھا

    اس میں یہ دشت تھا اس دشت میں مخلوق کب وارد ہوئی خدا معلوم لیکن سب بڑے بوڑھے یہ کہتے ہیں ادھر اک دشت تھا جانے کیوں ان کو یہاں لمبی قطاروں شہر کی گنجان گلیوں دفتروں شاہراہوں راستوں اور ریستورانوں جلسے جلوسوں ریلیوں اور ایوان ہائے بالا و زیریں میں خوش لباسی کے بھرم میں ناچتی وحشت ...

    مزید پڑھیے

    کوئی آنے کا نہیں اب

    گو ہمیں معلوم تھا کہ اب وہ سلسلہ باقی نہیں ہے گو ہمیں معلوم تھا کہ نوح آنے کے نہیں اب ہاں مگر جب شہر میں پانی در آیا ہم نے کچھ موہوم امیدوں کو پالا اور اک بڑے پنڈال پہ یکجا ہوئے ہم اور بیک آواز ہم نے نوح کو پھر سے پکارا گو ہمیں معلوم تھا کہ نوح آنے کے نہیں اب گو ہمیں احساس یہ بھی تھا ...

    مزید پڑھیے

    بلا عنوان

    آنکھ وا تھی ہونٹ چپ تھے اک ردائے یخ ہوا نے اوڑھ لی تھی جبیں خاموش سجدے بے زباں تھے آگے اک کالا سمندر پیچھے صبح آتشیں تھی اور جب لمحے رواں تھے ہم کہاں تھے

    مزید پڑھیے

    ورود

    جواں راتوں میں کالا دشت قالب میں اترتا ہے کہ میرے جسم و جاں کے مرغزاروں کی مہک ہوا کے دوش پر رقص کرتی ہے پیاسی ریت صحراؤں کی دھنستی ہے رگ و پے میں ادھڑتے ہیں مساموں سے لہو زاروں کے چشمے برف کوہسار کے سارے پرندے گیت گاتے ہیں حباب اٹھتا ہے گہرے نیلگوں زندہ سمندر کا ہمالہ سانس میں ...

    مزید پڑھیے

    الجھن

    ووستھا بھی بہت زیادہ نہیں ہے جتن جوکھم بہت ہیں آگے جو جنگل ہے وہ اس سے بھی زیادہ گنجلک ہے تپسیا کے ٹھکانے گیان کے منتر دھیان کی ہر ایک سیڑھی پر وہی مورکھ عجب سا جال تانے بیٹھا ہے یگوں سے نہ جانے کیوں مرے راون سے اس کو پراجے کا خطرہ ہے تو یوں کرتا ہوں اب کے خود کو خود سے تیاگ دیتا ...

    مزید پڑھیے