Khalid Karrar

خالد کرار

نئی نسل کے اہم شاعر

Prominent poet of younger generation.

خالد کرار کی غزل

    رواں ہے موج فنا جسم و جاں اتار مجھے

    رواں ہے موج فنا جسم و جاں اتار مجھے اتار اب کے سر آسماں اتار مجھے مرا وجود سمندر کے اضطراب میں ہے کہ کھل رہا ہے ترا بادباں اتار مجھے بہت عزیز ہوں خاران تازہ کار کو میں بہت اداس ہے دشت جواں اتار مجھے کوئی جزیرہ جہاں ہست و بود ہو نہ فنا وجود ہو نہ زمانہ وہاں اتار مجھے

    مزید پڑھیے

    سفر رستہ صعوبت خواب صحرا

    سفر رستہ صعوبت خواب صحرا سمندر واہمہ خوناب صحرا سفینے بارشیں طوفان موسم جزیرے کشتیاں سیلاب صحرا مسافر ریت ڈنٹھل پیاس پانی کھجوریں باغ گھر تالاب صحرا کلیسا مولوی راہب پجاری کلس مینار بت محراب صحرا مشینیں گھر دھواں گندم قطاریں ملازم نیند بچے خواب صحرا زمیں پتھر شجر نہریں ...

    مزید پڑھیے

    کسی کے خواب کو احساس سے باندھا ہوا ہے

    کسی کے خواب کو احساس سے باندھا ہوا ہے بہت پختہ بہت ہی پاس سے باندھا ہوا ہے ہمارے تخت کو مشروط کر رکھا ہے اس نے ہمارے تاج کو بن باس سے باندھا ہوا ہے سیاہی عمر بھر میرے تعاقب میں رہے گی کہ میں نے جسم کو قرطاس سے باندھا ہوا ہے مرے اثبات کی چابی کو اپنے پاس رکھ کر مرے انکار کو احساس ...

    مزید پڑھیے

    صبا کی خاک نوردی سبو کی ویرانی

    صبا کی خاک نوردی سبو کی ویرانی تمہارے بعد ہوئی آرزو کی ویرانی ترے بغیر میرے حوصلے زوال پذیر ترے بغیر مری جستجو کی ویرانی شمار عمر گریزاں حساب طاعت و زہد وضو کی خانہ پری تھی لہو کی ویرانی ہر ایک دشت پرانا سراب جاں کی طرح ہر ایک شہر نیا آبرو کی ویرانی تمہارے ساتھ سے میرے سخن کی ...

    مزید پڑھیے

    ہے مول بھاؤ میں بازار میں ہے ساتھ مرے

    ہے مول بھاؤ میں بازار میں ہے ساتھ مرے وہ ایک کار فنا زار میں ہے ساتھ مرے صلیب جاں سے وصال آسماں کے ساحل تک ہر ایک لذت آزار میں ہے ساتھ مرے کبھی تو ہیرو بناتا ہے اور کبھی جوکر ہر ایک رنگ کے کردار میں ہے ساتھ مرے یہی بہت ہے مرے جسم و جاں کا حصہ ہے کہیں تو موجۂ خوں بار میں ہے ساتھ ...

    مزید پڑھیے

    بات یہ ہے کہ کوئی بات پرانی بھی نہیں

    بات یہ ہے کہ کوئی بات پرانی بھی نہیں اور اس خاک میں اب کوئی نشانی بھی نہیں یہ تو ظاہر میں تموج تھا بلا کا لیکن یہ بدن میرا جہاں کوئی روانی بھی نہیں یا تو اک موج بلا خیز ہے میری خاطر یا کہ مشکیزۂ جاں میں کہیں پانی بھی نہیں بات یہ ہے کہ سبھی بھائی مرے دشمن ہیں مسئلہ یہ ہے کہ میں ...

    مزید پڑھیے

    ورود جسم تھا جاں کا عذاب ہونے لگا

    ورود جسم تھا جاں کا عذاب ہونے لگا لہو میں اترا مگر زہر آب ہونے لگا کوئی تو آئے سنائے نوید تازہ مجھے اٹھو کہ حشر سے پہلے حساب ہونے لگا اسے شبہ ہے جھلس جائے گا وہ ساتھ مرے مجھے یہ خوف کہ میں آفتاب ہونے لگا پھر اس کے سامنے چپ کی کڑی لبوں پہ لگی مرا یہ منصب حرف آب آب ہونے لگا میں ...

    مزید پڑھیے

    امکان سے باہر کبھی آثار سے آگے

    امکان سے باہر کبھی آثار سے آگے محشر ہے مرے دیدۂ خوں بار سے آگے عرفان کی حد یا مرے پیکر کی شرارت نکلا مرا سایہ مری دستار سے آگے اک جنس زدہ نسل ہے تہذیب کے پیچھے بازار ہے اک کوچہ و بازار سے آگے سورج ہے شب و روز تعاقب میں وگرنہ ہے اور بہت رات کے اسرار سے آگے ہم لوگ کہ منزل کے ...

    مزید پڑھیے

    بلا کی پیاس تھی حد نظر میں پانی تھا

    بلا کی پیاس تھی حد نظر میں پانی تھا کہ آج خواب میں صحرا تھا گھر میں پانی تھا پھر اس کے بعد مری رات بے مثال ہوئی ادھر وہ شعلہ بدن تھا ادھر میں پانی تھا نہ جانے خاک کے مژگاں پہ آبشار تھا کیا مرا قصور تھا میرے شرر میں پانی تھا تمام عمر یہ عقدہ نہ وا ہوا مجھ پر کہ ہاتھ میں تھا یا چشم ...

    مزید پڑھیے

    صحرا ساگر سب پانی

    صحرا ساگر سب پانی سبزہ بنجر سب پانی اول اول پانی تھا آخر آخر سب پانی پانی پانی شہر پناہ مسجد مندر سب پانی کوئی دن ایسا ہوگا صحرا ساگر سب پانی مستقبل مٹی کا ڈھیر ماضی کھنڈر سب پانی آگ دھماکے خون دھواں نیزے لشکر سب پانی ساری دنیا ڈانواڈول دھرتی ساگر سب پانی اندر اندر آگ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2