Khalid Karrar

خالد کرار

نئی نسل کے اہم شاعر

Prominent poet of younger generation.

خالد کرار کے تمام مواد

11 غزل (Ghazal)

    رواں ہے موج فنا جسم و جاں اتار مجھے

    رواں ہے موج فنا جسم و جاں اتار مجھے اتار اب کے سر آسماں اتار مجھے مرا وجود سمندر کے اضطراب میں ہے کہ کھل رہا ہے ترا بادباں اتار مجھے بہت عزیز ہوں خاران تازہ کار کو میں بہت اداس ہے دشت جواں اتار مجھے کوئی جزیرہ جہاں ہست و بود ہو نہ فنا وجود ہو نہ زمانہ وہاں اتار مجھے

    مزید پڑھیے

    سفر رستہ صعوبت خواب صحرا

    سفر رستہ صعوبت خواب صحرا سمندر واہمہ خوناب صحرا سفینے بارشیں طوفان موسم جزیرے کشتیاں سیلاب صحرا مسافر ریت ڈنٹھل پیاس پانی کھجوریں باغ گھر تالاب صحرا کلیسا مولوی راہب پجاری کلس مینار بت محراب صحرا مشینیں گھر دھواں گندم قطاریں ملازم نیند بچے خواب صحرا زمیں پتھر شجر نہریں ...

    مزید پڑھیے

    کسی کے خواب کو احساس سے باندھا ہوا ہے

    کسی کے خواب کو احساس سے باندھا ہوا ہے بہت پختہ بہت ہی پاس سے باندھا ہوا ہے ہمارے تخت کو مشروط کر رکھا ہے اس نے ہمارے تاج کو بن باس سے باندھا ہوا ہے سیاہی عمر بھر میرے تعاقب میں رہے گی کہ میں نے جسم کو قرطاس سے باندھا ہوا ہے مرے اثبات کی چابی کو اپنے پاس رکھ کر مرے انکار کو احساس ...

    مزید پڑھیے

    صبا کی خاک نوردی سبو کی ویرانی

    صبا کی خاک نوردی سبو کی ویرانی تمہارے بعد ہوئی آرزو کی ویرانی ترے بغیر میرے حوصلے زوال پذیر ترے بغیر مری جستجو کی ویرانی شمار عمر گریزاں حساب طاعت و زہد وضو کی خانہ پری تھی لہو کی ویرانی ہر ایک دشت پرانا سراب جاں کی طرح ہر ایک شہر نیا آبرو کی ویرانی تمہارے ساتھ سے میرے سخن کی ...

    مزید پڑھیے

    ہے مول بھاؤ میں بازار میں ہے ساتھ مرے

    ہے مول بھاؤ میں بازار میں ہے ساتھ مرے وہ ایک کار فنا زار میں ہے ساتھ مرے صلیب جاں سے وصال آسماں کے ساحل تک ہر ایک لذت آزار میں ہے ساتھ مرے کبھی تو ہیرو بناتا ہے اور کبھی جوکر ہر ایک رنگ کے کردار میں ہے ساتھ مرے یہی بہت ہے مرے جسم و جاں کا حصہ ہے کہیں تو موجۂ خوں بار میں ہے ساتھ ...

    مزید پڑھیے

تمام

8 نظم (Nazm)

    نو مینس لینڈ

    مجھے بتا کر کہ میری سمت سفر کہاں ہے کئی خزانوں کے بے نشان نقشے مجھے تھما کر کہا تھا اس نے کہ ساتویں در سے اور آگے تمہاری خاطر مرا وہ باب بقا کھلا ہے مگر وہاں پر تمام در وا تھے میری خاطر وہ ساتواں در کھلا نہیں تھا مگر وہاں پر کوئی بھی راز بقا نہیں تھا تمام اجسام تھے سلامت کوئی بھی ...

    مزید پڑھیے

    راون زندہ باد

    جلا رہا ہوں کئی یگوں سے میں اس کو خود ہی جلا رہا ہوں جلا رہا ہوں کہ اس کے جلنے میں جیت میری ہے مات اس کی جلا رہا ہوں بڑے سے پنڈال میں سجا کر جلا رہا ہوں مٹا رہا ہوں مگر وہ مرے ہی من کی اندھیر نگری میں جی رہا ہوں وہ میری لنکا میں اپنے پاؤں پسارے بیٹھا کئی یگوں سے مجھے مسلسل چڑا رہا ...

    مزید پڑھیے

    لہو کو زوم کرتے ہیں

    دریچے سے جہاں تک بھی نظر آتا ہے مسلسل خامشی ہے سڑک کی پیلی لکیر سر پیٹتی ہے دور تک فٹپاتھ پر روندے ہوئے سائے پول پر بجلی کے کھمبے سے لٹکتی ایک چمگادڑ صبح کا زرد چہرہ رات کے اندوہ کا احوال ایک چوپایہ اور نکڑ پر کھڑے ہو تم مسلسل خامشی ہے دریچے سے جہاں تک بھی نظر آتا ہے مسلسل خامشی ...

    مزید پڑھیے

    اصل میں یہ دشت تھا

    اس میں یہ دشت تھا اس دشت میں مخلوق کب وارد ہوئی خدا معلوم لیکن سب بڑے بوڑھے یہ کہتے ہیں ادھر اک دشت تھا جانے کیوں ان کو یہاں لمبی قطاروں شہر کی گنجان گلیوں دفتروں شاہراہوں راستوں اور ریستورانوں جلسے جلوسوں ریلیوں اور ایوان ہائے بالا و زیریں میں خوش لباسی کے بھرم میں ناچتی وحشت ...

    مزید پڑھیے

    کوئی آنے کا نہیں اب

    گو ہمیں معلوم تھا کہ اب وہ سلسلہ باقی نہیں ہے گو ہمیں معلوم تھا کہ نوح آنے کے نہیں اب ہاں مگر جب شہر میں پانی در آیا ہم نے کچھ موہوم امیدوں کو پالا اور اک بڑے پنڈال پہ یکجا ہوئے ہم اور بیک آواز ہم نے نوح کو پھر سے پکارا گو ہمیں معلوم تھا کہ نوح آنے کے نہیں اب گو ہمیں احساس یہ بھی تھا ...

    مزید پڑھیے

تمام