رواں ہے موج فنا جسم و جاں اتار مجھے
رواں ہے موج فنا جسم و جاں اتار مجھے
اتار اب کے سر آسماں اتار مجھے
مرا وجود سمندر کے اضطراب میں ہے
کہ کھل رہا ہے ترا بادباں اتار مجھے
بہت عزیز ہوں خاران تازہ کار کو میں
بہت اداس ہے دشت جواں اتار مجھے
کوئی جزیرہ جہاں ہست و بود ہو نہ فنا
وجود ہو نہ زمانہ وہاں اتار مجھے