Khalid Ebadi

خالد عبادی

نامور صحافی ،مابعد جدید شعرا میں مخصوص اظہار کے لیے معروف

Prominent journalist, known for his unique expression among post modern poets

خالد عبادی کی غزل

    یہ صحرا بس ابھی گل زار ہو جانے ہی والا ہے

    یہ صحرا بس ابھی گل زار ہو جانے ہی والا ہے کوئی طوفاں نہیں تو قافلہ آنے ہی والا ہے ذرا ٹھہرو اسے آنے دو اس کی بات بھی سن لیں ہمیں جو علم ہے گو دل کو دہلانے ہی والا ہے سمندر میں جزیرے ہیں جزیروں پر ہے آبادی ابھی اک شور بس کانوں سے ٹکرانے ہی والا ہے ہوائے فصل گل میں شورش باد خزاں ...

    مزید پڑھیے

    مری زمین ترے آسماں سے اچھی ہے

    مری زمین ترے آسماں سے اچھی ہے یہ کربلا نہ بنے تو جناں سے اچھی ہے اگرچہ گرد اطاعت سے بے ظہور ہوئی مری جبین ترے آستاں سے اچھی ہے ابھی تو یہ بھی ترے شہر میں نہیں رائج نہیں ہماری حریصوں کی ہاں سے اچھی ہے جہاں سے ہم نے بنائی ہے اک نئی شہہ راہ اگر چلو گے کہو گے یہاں سے اچھی ہے ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    بہت ہو چکا کھیل اب ختم ہو

    بہت ہو چکا کھیل اب ختم ہو ہوئے سب سے بیزار سب ختم ہو تری راہ میں پھر سے بچھ جائیں گے یہ کار جہاں یہ غضب ختم ہو تمہیں بھی دکھائیں گے وہ چیز ہم تلاش دل خوش طلب ختم ہو شفا تو مقدر ہے بیمار کا اگر مقتضائے مطب ختم ہو ابھی سر جھکانے میں لذت نہیں اداکاریٔ روز و شب ختم ہو عبادیؔ انہوں ...

    مزید پڑھیے

    اچھے خاصے لوگ برے ہو جاتے ہیں

    اچھے خاصے لوگ برے ہو جاتے ہیں جاگنے کا دعویٰ کر کے سو جاتے ہیں شہر کا بھی دستور وہی جنگل والا کھوجنے والے ہی اکثر کھو جاتے ہیں دیوانوں کی گھات میں بیٹھنے والے لوگ سنتے ہیں اک دن پاگل ہو جاتے ہیں اس کی گلی میں جا کر اس سے الجھیں گے ساتھ اگر ہونا ہے ہو لو جاتے ہیں ہم جیسوں کو ...

    مزید پڑھیے

    مسافر راستے میں ہے ابھی تک

    مسافر راستے میں ہے ابھی تک نہیں پہنچا اجالا تیرگی تک گلوں میں چاند کھلنے کے یہ دن ہیں مگر کھلتی نہیں ہے اک کلی تک ذرا سا درد اور اتنی دوائیں پسند آئی نہیں چارہ گری تک برہنہ جسم پر دو چار دھبے تماشا دیکھتے ہیں اجنبی تک وہ ایسی قیمتی شے بھی نہیں تھی لٹی تو یاد آتی ہے ابھی ...

    مزید پڑھیے

    سنا ہے اس طرف کا رخ کریں گے

    سنا ہے اس طرف کا رخ کریں گے ترے دشمن مری جانب بڑھیں گے کسی سے کچھ نہ پوچھا کچھ نہ جانا یہ دھبے خون کے کیسے دھلیں گے بہت ہیں چار دن یہ زندگی کے کبھی رن میں کبھی گھر میں رہیں گے مسیحاؤں کو اب زحمت نہ ہوگی ہم ان کے آتے آتے مر چکیں گے کہاں جاتے ہیں گھبرائے ہوئے لوگ کہ صحرا میں تو ...

    مزید پڑھیے

    تری طلب مجھے حیران کیوں نہیں رکھتی

    تری طلب مجھے حیران کیوں نہیں رکھتی شریک موجۂ امکان کیوں نہیں رکھتی میں زخم زخم نہیں ہوں مگر مسیحائی مرے بدن میں مری جان کیوں نہیں رکھتی میں جھانکنے کے لیے تو نہ کہتا دنیا سے یہ ہوشیار گریبان کیوں نہیں رکھتی مجالدہ ہی ضروری ہے تو چمن کا نام بہار جنگ کا میدان کیوں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے

    کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے ایسے میں جب تیر ستم کی بارش ہوتی ہے حال ہمارا سننے والے جانے کیا سوچیں یوں بھی کیسی کیسی ذہنی کاوش ہوتی ہے دیواروں پر کیا لکھا ہے پڑھ کے بتلاؤ کیا ایسی باتوں پر یارو نالش ہوتی ہے ہم اس کی تعمیل میں دیوانے بن جاتے ہیں دل ایسے ناداں کی جب ...

    مزید پڑھیے

    عیاں نہیں ہے کوئی چیز تو نہاں بھی نہیں

    عیاں نہیں ہے کوئی چیز تو نہاں بھی نہیں کہیں دھواں ہی دھواں ہے کہیں دھواں بھی نہیں دیار دل سے ہمارا بھی قافلہ گزرا مکین بدلے ہوئے اور وہ مکاں بھی نہیں ندامتوں نے کشادہ کیا سواد سحر تو اب خیال شب ماہ و کہکشاں بھی نہیں یہی بہت ہے ملا خاک میں نہ عزم سفر سرائے دور کہیں راہ میں کنواں ...

    مزید پڑھیے