یہ صحرا بس ابھی گل زار ہو جانے ہی والا ہے
یہ صحرا بس ابھی گل زار ہو جانے ہی والا ہے کوئی طوفاں نہیں تو قافلہ آنے ہی والا ہے ذرا ٹھہرو اسے آنے دو اس کی بات بھی سن لیں ہمیں جو علم ہے گو دل کو دہلانے ہی والا ہے سمندر میں جزیرے ہیں جزیروں پر ہے آبادی ابھی اک شور بس کانوں سے ٹکرانے ہی والا ہے ہوائے فصل گل میں شورش باد خزاں ...