عیاں نہیں ہے کوئی چیز تو نہاں بھی نہیں
عیاں نہیں ہے کوئی چیز تو نہاں بھی نہیں
کہیں دھواں ہی دھواں ہے کہیں دھواں بھی نہیں
دیار دل سے ہمارا بھی قافلہ گزرا
مکین بدلے ہوئے اور وہ مکاں بھی نہیں
ندامتوں نے کشادہ کیا سواد سحر
تو اب خیال شب ماہ و کہکشاں بھی نہیں
یہی بہت ہے ملا خاک میں نہ عزم سفر
سرائے دور کہیں راہ میں کنواں بھی نہیں
یہ کیسے دست صبا آج ہو گیا رنگین
لہو میں ڈوبی ہوئی شاخ آشیاں بھی نہیں
سناؤ حال دل بیقرار وحشی کو
کہ اس کے پاس مداوائے رائیگاں بھی نہیں