مری زمین ترے آسماں سے اچھی ہے

مری زمین ترے آسماں سے اچھی ہے
یہ کربلا نہ بنے تو جناں سے اچھی ہے


اگرچہ گرد اطاعت سے بے ظہور ہوئی
مری جبین ترے آستاں سے اچھی ہے


ابھی تو یہ بھی ترے شہر میں نہیں رائج
نہیں ہماری حریصوں کی ہاں سے اچھی ہے


جہاں سے ہم نے بنائی ہے اک نئی شہہ راہ
اگر چلو گے کہو گے یہاں سے اچھی ہے


ہمارے سر پہ کبھی موت ہے کبھی دشمن
مگر یہ بات تلاش اماں سے اچھی ہے