بہت ہو چکا کھیل اب ختم ہو
بہت ہو چکا کھیل اب ختم ہو
ہوئے سب سے بیزار سب ختم ہو
تری راہ میں پھر سے بچھ جائیں گے
یہ کار جہاں یہ غضب ختم ہو
تمہیں بھی دکھائیں گے وہ چیز ہم
تلاش دل خوش طلب ختم ہو
شفا تو مقدر ہے بیمار کا
اگر مقتضائے مطب ختم ہو
ابھی سر جھکانے میں لذت نہیں
اداکاریٔ روز و شب ختم ہو
عبادیؔ انہوں نے کہا آج پھر
کسی طرح یہ بے ادب ختم ہو