عشق میں یہ نادانی کرنی پڑتی ہے

عشق میں یہ نادانی کرنی پڑتی ہے
اس کے نام جوانی کرنی پڑتی ہے


انہیں بچانا پڑتا ہے تعبیروں سے
خوابوں کی نگرانی کرنی پڑتی ہے


آگ لگائی جا سکتی ہے پانی میں
اک کوشش لا ثانی کرنی پڑتی ہے


سنتے سنتے جب بچے سو جاتے ہیں
مجھ کو ختم کہانی کرنی پڑتی ہے


خواہشات کو ممکن ہے بس میں کرنا
ان کی نافرمانی کرنی پڑتی ہے


اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں
اکثر لغو بیانی کرنی پڑتی ہے


کبھی کبھی میں یوں بچہ ہو جاتا ہوں
کبھی کبھی شیطانی کرنی پڑتی ہے