Khalid Ahmad

خالد احمد

خالد احمد کی غزل

    پھر وہی مہرباں ہوا آئی

    پھر وہی مہرباں ہوا آئی اے مری بے چراغ تنہائی بین کرنے لگیں نہ سناٹے پاسداران گوش و گوپائی کس نے توفیق سے سوا پایا دل نے غم آنکھ نے نمی پائی عشق کا اجر ہے دل رسوا پارسائی عذاب دانائی یہ اسی شہر کے منارے ہیں اے تحیر سرشت بینائی! چار جانب وہی دھندلکے ہیں گمرہو! پھر وہی گلی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4