Khalid Ahmad

خالد احمد

خالد احمد کی غزل

    زمین کو پھول فضا کو گھٹائیں دیتا ہے

    زمین کو پھول فضا کو گھٹائیں دیتا ہے مجھے فلک سے وہ اب تک صدائیں دیتا ہے وہی نوا گر عالم خدائے صوت و صدا وہی ہوا کو فقط سائیں سائیں دیتا ہے وہی کہیں گل نغمہ کہیں گل نوحہ وہی غموں کو سروں کی قبائیں دیتا ہے وہ کوہسار تخیر وہ آبشار ندا خموشیوں کو بھی کیا کیا ندائیں دیتا ہے کوئی تو ...

    مزید پڑھیے

    لب سئے دیکھا کروں سوچا کروں

    لب سئے دیکھا کروں سوچا کروں میرے بس میں کچھ نہیں میں کیا کروں راہ میں ہے درد کا کوہ گراں کوہ کن بھی میں نہیں میں کیا کروں شہر کے شور و شغب سے بھاگ کر کوئی کنج عافیت ڈھونڈا کروں گنجلک مگھم صداؤں کی طرح گنبد تنہائی میں گونجا کروں اور ان مبہم صداؤں کا اگر کوئی مطلب ہو تو وہ لکھا ...

    مزید پڑھیے

    ربط کس سے تھا کسے کس کا شناسا کون تھا

    ربط کس سے تھا کسے کس کا شناسا کون تھا شہر بھر تنہا تھا لیکن مجھ سا تنہا کون تھا میں سمندر تھا مگر ویراں تھا صحرا کی طرح میرے گھر تک چل کے آتا اتنا پیاسا کون تھا ریزۂ سنگ انا تھا راہ کا کوہ گراں بڑھ کے لگ جاتا مرے سینے سے ایسا کون تھا سطح پر خاموشیوں کی گونج ہے نوحہ کناں اپنی ...

    مزید پڑھیے

    خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں

    خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں آدمی اٹھ گئے نیکیاں رہ گئیں کس کی تعلیم کا آخری سال تھا چوڑیاں بک گئیں بالیاں رہ گئیں عشق اک روپ تھا حسن کی دھوپ کا یاد کیوں دھوپ کی سختیاں رہ گئیں خون میں گھل گئیں سانولی قربتیں تن میں تپتی ہوئی ہڈیاں رہ گئیں درد انگور کی بیل تھے پھل گئے غم کشوں ...

    مزید پڑھیے

    وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے

    وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے کہ دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے وہ مصرع تھا کہ اک گل رنگ چہرہ ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے ہم ان آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں یہ ہاتھ اس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے یقینی ہے اب اس دل کی تباہی یہ قریہ راہ سے بھٹکا ہوا ہے گلہ اس کا کریں کس دل سے خالدؔ یہ دل کب ایک ...

    مزید پڑھیے

    پیاس لگنا تھی لگی سرشار ہونا تھا ہوئے

    پیاس لگنا تھی لگی سرشار ہونا تھا ہوئے ہم کو غرقاب سراب دار ہونا تھا ہوئے ہم تری آہٹ پہ سڑکوں پر نکل آئے تو کیا ہم کو رسوا بر سر بازار ہونا تھا ہوئے تیرے کاندھوں کے لیے سر دے کے آخر کیا گیا ہم کو یوں بھی بے سر و دستار ہونا تھا ہوئے تو کہے تو اپنے ہاتھوں اپنی شہ رگ کاٹ لیں ہم کو ...

    مزید پڑھیے

    صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو

    صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو اور پھر اس سے سر ٹکرانا جانے کیسا ہو یہ رستے جو ہم نے پگ پگ آپ بکھیرے ہیں ان رستوں سے لوٹ کے جانا جانے کیسا ہو جس کی پوریں دل کی اک اک دھڑکن گنتی ہیں جس کو ہم نے خود گردانا جانے کیسا ہو اس کے سامنے ہم کیا جانیں دل پر کیا گزرے نام تک اپنا یاد نہ ...

    مزید پڑھیے

    رنگ کہتے ہیں کہانی میری

    رنگ کہتے ہیں کہانی میری کس کی خوشبو تھی جوانی میری کوئی پائے تو مجھے کیا پائے کھوئے رہنا ہے نشانی میری کوہ سے دشت میں لے آئی ہے دشمن جاں ہے روانی میری کھل رہی ہے پس دیوار زماں خواہش نقل مکانی میری سر مرقد ہیں سبھی سایہ کشا کوئی حسرت نہیں فانی میری تپش رنگ جھلس ڈالے گی کیا ...

    مزید پڑھیے

    ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں

    ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تو نہ میں ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے وا کر سکا مگر لب گویا نہ تو نہ میں نوحے فصیل ضبط سے اونچے نہ ہو سکے کھل کر دیار سنگ میں رویا نہ تو نہ ...

    مزید پڑھیے

    کھلا مجھ پر در امکان رکھنا

    کھلا مجھ پر در امکان رکھنا مرے مولا مجھے حیران رکھنا یہی اک مرحلہ منزل نہ ٹھہرے یہی اک مرحلہ آسان رکھنا مرے دل کا ورق نکلے نہ سادہ کوئی خواہش کوئی ارمان رکھنا یہ دل طاق چراغ زر نہ ٹھہرے مرے مالک مجھے نادان رکھنا مرے حالات مجھ کو چھو نہ پائیں مجھے ہر حال میں انسان رکھنا بھری ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4