Khalid Ahmad

خالد احمد

خالد احمد کی غزل

    تند خوئی پہ طنز کر جاؤں

    تند خوئی پہ طنز کر جاؤں بن کے خوشبو ہوا کے گھر جاؤں دشمن جاں نفس نفس میرا دھول کا پھول ہوں کدھر جاؤں تو بھلائے تو کیا بھلائے مجھے نشہ ہوں کس طرح اتر جاؤں خود الجھتا ہوں خود سلجھتا ہوں کچھ نکھر جاؤں کچھ سنور جاؤں جسم اور عشق کے حوالے سے میں تری روح میں اتر جاؤں بت کو دیکھا تو ...

    مزید پڑھیے

    دم سادھ کے دیکھوں تجھے جھپکوں نہ پلک بھی

    دم سادھ کے دیکھوں تجھے جھپکوں نہ پلک بھی آنکھوں میں سمو لوں ترے لہجے کی دمک بھی اے عشق اگر مجھ کو ترا اذن ہو ممکن آغوش میں لے لوں ترے پیکر کی مہک بھی اے ذکر مرے فکر کی تقدیر بدل دے اے نور مرے نطق کے کاسے میں جھلک بھی اے قطرۂ خوں مصحف رخسار پہ تل بن اے سطر تپاں کاغذ سادہ پہ دہک ...

    مزید پڑھیے

    ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو

    ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو افق افق شفق درد کی حنا بھی تو ہو خلا بہ پا ہوں مگر دشت دشت خاک بہ سر کچھ اپنا آپ مٹانے کی انتہا بھی تو ہو میں خاک بن کے فضا میں بکھر بکھر جاؤں کسی کے پاؤں تلے زینۂ صبا بھی تو ہو ہوس کی برف بدن سے پگھل تو جائے مگر شرر شرر کوئی پیکر کبھی چھوا بھی تو ...

    مزید پڑھیے

    رنگ سا پھرتا ہے زیر آسماں دیکھا ہوا

    رنگ سا پھرتا ہے زیر آسماں دیکھا ہوا روبرو اک عکس ہے جانے کہاں دیکھا ہوا کس کے ہونے کی خبر دیتے ہیں یہ دیوار و در جانے کیوں لگتا ہے مجھ کو یہ مکاں دیکھا ہوا اک گھروندا ہولے ہولے گھل رہا ہے آج بھی ایک منظر ہے تہہ آب رواں دیکھا ہوا میں تو پہلی بار آیا تھا تمہارے شہر میں ناگہاں مجھ ...

    مزید پڑھیے

    اک گام سر راہ سپاس آئی نہ دنیا

    اک گام سر راہ سپاس آئی نہ دنیا دریوزۂ عقبیٰ تھا سو راس آئی نہ دنیا محروم رہی صحبت مردان رضا سے کس حسن کی دہشت تھی کہ پاس آئی نہ دنیا ناچی ہے برہنہ سر بازار ہمیشہ اک بار تہ تار لباس آئی نہ دنیا اے راندۂ دنیا تجھے کیا غم کہ مجھ ایسے پروردۂ دنیا کو بھی راس آئی نہ دنیا خالدؔ افق ...

    مزید پڑھیے

    رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرے

    رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرے اک خوشبو پھولوں میں کیا کیا رنگ بھرے فن کی اپنی موج دکھوں کی اپنی رو اک ترکش میں کوئی کتنے خدنگ بھرے کون لکیروں کو تصویروں میں ڈھالے کس کا لہو یہ خاکے یہ نیرنگ بھرے رنگ لباس کو رنگ بدن سے آب ملے گنگ حروف میں نغموں کا آہنگ بھرے کس کی آنکھیں تہمت لمس ...

    مزید پڑھیے

    ابھری نہ کوئی شکل نہ پیکر نظر آیا

    ابھری نہ کوئی شکل نہ پیکر نظر آیا تصویر میں رنگوں کا سمندر نظر آیا اے دوست ترا شہر بھی ہے شہر طلسمات چھوکر جسے دیکھا وہی پتھر نظر آیا ہر شخص حقائق کی کڑی دھوپ کے ڈر سے تانے ہوئے اوہام کی چادر نظر آیا ہر شخص نیا شخص تھا جب غور سے دیکھا انسان اک انسان کے اندر نظر آیا میں خواب میں ...

    مزید پڑھیے

    سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو

    سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو پھر چپ کا حسن دیکھو بے کار لب نہ کھولو نوحہ کناں ہواؤ شعلہ بہ جاں فضاؤ دیکھو وہ جا رہا ہے جی بھر کے اس کو رو لو ڈالے رہیں بسیرے خوابوں بھرے اندھیرے محلوں کی آس رکھو کٹیا کے پٹ نہ کھولو کوندے لپک رہے ہیں جذبے چمک رہے ہیں صدیاں بلک رہی ہیں ...

    مزید پڑھیے

    اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی

    اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی بے کسوں کا نہیں گویا کوئی شور سے گونجتے سناٹوں کے وا کرے کیا لب گویا کوئی سنگ دل جب بھی کوئی یاد آیا لگ کے دیوار سے رویا کوئی لوٹ کر بھی کوئی بے چین رہا لٹ کے بھی چین سے سویا کوئی حشر ساماں ہوئیں ویراں آنکھیں پھر کسی خواب میں کھویا کوئی زیست کا دشت سمن ...

    مزید پڑھیے

    بے وفا ہوں نہ وفادار ہوں میں

    بے وفا ہوں نہ وفادار ہوں میں سچ تو یہ ہے کہ اداکار ہوں میں سی دیئے اس نے مرے ہونٹ تو کیا اب مجسم لب اظہار ہوں میں میرے ہاتھوں میں گڑے ہیں کانٹے پھول ہوں اور سر دار ہوں میں ہر کرن ڈوب چلی صورت نبض کن اندھیروں میں ضیا بار ہوں میں ذہن ہے سر پہ لٹکتی تلوار کن عقائد میں گرفتار ہوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4