Khalid Ahmad

خالد احمد

خالد احمد کے تمام مواد

31 غزل (Ghazal)

    تند خوئی پہ طنز کر جاؤں

    تند خوئی پہ طنز کر جاؤں بن کے خوشبو ہوا کے گھر جاؤں دشمن جاں نفس نفس میرا دھول کا پھول ہوں کدھر جاؤں تو بھلائے تو کیا بھلائے مجھے نشہ ہوں کس طرح اتر جاؤں خود الجھتا ہوں خود سلجھتا ہوں کچھ نکھر جاؤں کچھ سنور جاؤں جسم اور عشق کے حوالے سے میں تری روح میں اتر جاؤں بت کو دیکھا تو ...

    مزید پڑھیے

    دم سادھ کے دیکھوں تجھے جھپکوں نہ پلک بھی

    دم سادھ کے دیکھوں تجھے جھپکوں نہ پلک بھی آنکھوں میں سمو لوں ترے لہجے کی دمک بھی اے عشق اگر مجھ کو ترا اذن ہو ممکن آغوش میں لے لوں ترے پیکر کی مہک بھی اے ذکر مرے فکر کی تقدیر بدل دے اے نور مرے نطق کے کاسے میں جھلک بھی اے قطرۂ خوں مصحف رخسار پہ تل بن اے سطر تپاں کاغذ سادہ پہ دہک ...

    مزید پڑھیے

    ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو

    ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو افق افق شفق درد کی حنا بھی تو ہو خلا بہ پا ہوں مگر دشت دشت خاک بہ سر کچھ اپنا آپ مٹانے کی انتہا بھی تو ہو میں خاک بن کے فضا میں بکھر بکھر جاؤں کسی کے پاؤں تلے زینۂ صبا بھی تو ہو ہوس کی برف بدن سے پگھل تو جائے مگر شرر شرر کوئی پیکر کبھی چھوا بھی تو ...

    مزید پڑھیے

    رنگ سا پھرتا ہے زیر آسماں دیکھا ہوا

    رنگ سا پھرتا ہے زیر آسماں دیکھا ہوا روبرو اک عکس ہے جانے کہاں دیکھا ہوا کس کے ہونے کی خبر دیتے ہیں یہ دیوار و در جانے کیوں لگتا ہے مجھ کو یہ مکاں دیکھا ہوا اک گھروندا ہولے ہولے گھل رہا ہے آج بھی ایک منظر ہے تہہ آب رواں دیکھا ہوا میں تو پہلی بار آیا تھا تمہارے شہر میں ناگہاں مجھ ...

    مزید پڑھیے

    اک گام سر راہ سپاس آئی نہ دنیا

    اک گام سر راہ سپاس آئی نہ دنیا دریوزۂ عقبیٰ تھا سو راس آئی نہ دنیا محروم رہی صحبت مردان رضا سے کس حسن کی دہشت تھی کہ پاس آئی نہ دنیا ناچی ہے برہنہ سر بازار ہمیشہ اک بار تہ تار لباس آئی نہ دنیا اے راندۂ دنیا تجھے کیا غم کہ مجھ ایسے پروردۂ دنیا کو بھی راس آئی نہ دنیا خالدؔ افق ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    اعتراف

    بات کہنا نہیں آتی مجھے لکھنا نہیں آتا سطر کہنے کا ہنر نظم بنانے کا سلیقہ بات کرنے کا قرینہ مجھے کچھ بھی نہیں آتا کوئی صورت فن عرض ہنر آ جائے مجھے بھی شام کو شام کہوں اور نگاہوں پہ اندھیرے اتر آئیں صبح کو صبح لکھوں اور پس‌ سطر تپاں دھوپ بھرا دن نکل آئے کل بھی تاثیر تہی تھا مرا ...

    مزید پڑھیے