نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں
نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں روشنی کے پیڑوں پر رات کے بسیرے ہیں شہر شہر سناٹے یوں صدا کو گھیرے ہیں جس طرح جزیروں کے پانیوں میں ڈیرے ہیں نیند کب میسر ہے جاگنا مقدر ہے زلف زلف اندھیارے خم بہ خم سویرے ہیں دل اگر کلیسا ہے غم شبیہ عیسیٰ ہے پھول راہبہ بن کر روح نے بکھیرے ...