Khalid Ahmad

خالد احمد

خالد احمد کی غزل

    نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں

    نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں روشنی کے پیڑوں پر رات کے بسیرے ہیں شہر شہر سناٹے یوں صدا کو گھیرے ہیں جس طرح جزیروں کے پانیوں میں ڈیرے ہیں نیند کب میسر ہے جاگنا مقدر ہے زلف زلف اندھیارے خم بہ خم سویرے ہیں دل اگر کلیسا ہے غم شبیہ عیسیٰ ہے پھول راہبہ بن کر روح نے بکھیرے ...

    مزید پڑھیے

    زندگی میں کسی رخ کا کسی دکھ کا ہونا

    زندگی میں کسی رخ کا کسی دکھ کا ہونا اچھا ہوتا ہے سفر میں کوئی اپنا ہونا درد بھی موج کے مانند سفر کرتے ہیں اچھا رہتا ہے پلک پر کوئی تارا ہونا ٹھوکریں مارنے لگتا ہے لہو نس نس میں کتنا دشوار ہے تیرا مرا اپنا ہونا ایک ہم ہیں کہ ترے ہو کے بھی آوارہ ہیں اپنی تقدیر ہے آوازۂ صحرا ...

    مزید پڑھیے

    حال ہوا جب پوچھنے آئی ہم مجبوروں سے

    حال ہوا جب پوچھنے آئی ہم مجبوروں سے کوئی بات کہاں بن پائی ہم مجبوروں سے آج سبھی دکھ آنسو بن کر آنکھ میں تیر گئے کھیل رہی تھی کھیل خدائی ہم مجبوروں سے وہ بے پردہ وہ بے پروا وہ یک سر یک تال بات کرے یا وہ ہرجائی ہم مجبوروں سے پاؤں توڑ کے بیٹھ رہے ہیں راہ کے پتھر بھی چاہ رہے تھے راہ ...

    مزید پڑھیے

    ڈر یہ ہے بازوؤں میں موم کی صورت نہ پگھل جائے کہیں

    ڈر یہ ہے بازوؤں میں موم کی صورت نہ پگھل جائے کہیں تو مرے ساتھ مرے جسم کے دوزخ میں نہ جل جائے کہیں گھر سے گاتا ہوا نکلا تو ہوں میں نغمۂ احساس مگر شہر کے شور میں دب جائیں نہ سر لے نہ بدل جائے کہیں فقط اس خوف سے جاتا نہیں میں صبح طرب کی جانب افق دل سے ترے درد کا مہتاب نہ ڈھل جائے ...

    مزید پڑھیے

    پتھر سے کیا شکل نکالے یہ ہم کیا جانیں

    پتھر سے کیا شکل نکالے یہ ہم کیا جانیں آذر کس پیکر میں ڈھالے یہ ہم کیا جانیں کون ہوا کا ہاتھ بڑھائے ناؤ الٹ جائے دریا کودے کون اچھالے یہ ہم کیا جانیں نیند بھرے ہلکورے لیں راتیں کس کے ہاتھوں کون چراغ صبح اجالے یہ ہم کیا جانیں کیا کہئے کس زہر کی کاٹ رگوں میں پھرتی ہے کس نے بجھائے ...

    مزید پڑھیے

    بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے

    بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے لب رسیلے نہ رہے نین نشیلے نہ رہے اشک برسے تو دروں خانۂ جاں سیل گیا درد چمکا تو در و بام بھی گیلے نہ رہے پھول سے باس جدا فکر سے احساس جدا فرد سے ٹوٹ گئے فرد قبیلے نہ رہے ٹیس اٹھتی ہے مگر چیخ نہیں ہو پاتی تیرے پھینکے ہوئے پتھر بھی نکیلے نہ رہے موت ...

    مزید پڑھیے

    دل بھر آئے تو سمندر نہیں دیکھے جاتے

    دل بھر آئے تو سمندر نہیں دیکھے جاتے عکس پانی میں اتر کر نہیں دیکھے جاتے دیکھ اے سست روی ہم سے کنارا کر لے ہر قدم راہ کے پتھر نہیں دیکھے جاتے وہ چہک ہو کہ مہک ایک ہی رخ اڑتی ہے بر سر دوش ہوا پر نہیں دیکھے جاتے دیکھ اے سادہ دل و سادہ رخ و سادہ جمال ہر جگہ یہ زر و زیور نہیں دیکھے ...

    مزید پڑھیے

    غم فراہم ہیں مگر ان کی فراوانی نہیں

    غم فراہم ہیں مگر ان کی فراوانی نہیں اے گراں جانی یہاں کوئی بھی آسانی نہیں چار سو اک برف بستہ عہد نم کا راج ہے دھوپ میں حدت نہیں دریاؤں میں پانی نہیں یاد ہے کیا کام ہے اس شہر کا کیا نام ہے سب کچھ اس جیسا ہے لیکن آسماں دھانی نہیں زندگی کے دکھ ازل سے زندگی کے ساتھ ہیں لوگ فانی ہیں ...

    مزید پڑھیے

    اپنے دل کا حال نہ کہنا کیسا لگتا ہے

    اپنے دل کا حال نہ کہنا کیسا لگتا ہے تم کو اپنا چپ چپ رہنا کیسا لگتا ہے دکھ کی بوندیں کیا تم کو بھی کھاتی رہتی ہیں آہستہ آہستہ ڈھہنا کیسا لگتا ہے درد بھری راتیں جس دم ہلکورے دیتی ہیں دریاؤں کے رخ پر بہنا کیسا لگتا ہے میں تو اپنی دھن میں چکرایا سا پھرتا ہوں تم کو اپنی موج میں رہنا ...

    مزید پڑھیے

    خوف زدہ تھے کون سے لوگ ان شیر دلیروں سے

    خوف زدہ تھے کون سے لوگ ان شیر دلیروں سے کوئی تو اتنا پوچھے ان مٹی کے ڈھیروں سے دن کے دیس سے اڑ آتے ہیں میری آنکھوں میں ساتھ نبھانا بھول گئے تھے رنگ اندھیروں سے تیر چلانے والے گھر کیا لوٹ بھی پائیں گے؟ کیا یہ پنچھی دم دے دیں گے دور بسیروں سے شام کا تارا، صبح کا پہلا تارا ٹھہرے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4