Khaleel-ul-Huda Shariq Niyazi

خلیل الہدی شارق نیازی

  • 1917 - 1978

خلیل الہدی شارق نیازی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    عشرت کا خیال آئے اور دل میں ملال آئے

    عشرت کا خیال آئے اور دل میں ملال آئے یوں جس کا خیال آئے خاک اس کا خیال آئے پیغام بہار آئے مجبور قفس تک کیوں کیوں عشرت رفتہ کا اب دل میں خیال آئے ساقی تری محفل میں اندیشۂ فردا کیا ساغر لئے تو آئے اور فکر مآل آئے کچھ ہوش نہیں ہم کو پیمان وفا کیا تھا ہم صبح ازل ہی سے سرمست خیال ...

    مزید پڑھیے

    اسیر شام و سحر انقلاب پیدا کر

    اسیر شام و سحر انقلاب پیدا کر تو سینہ چاک سہی آفتاب پیدا کر سکون دل کو فریب امید کیا کم ہے جو تشنگی ہے مقدر سراب پیدا کر کہاں وہ شوق کہاں وہ فریب کاریٔ شوق کہیں سے پھر وہی عہد شباب پیدا کر تڑپ تڑپ کے دل بے قرار رہ جائے کچھ اور زلف سیہ پیچ و تاب پیدا کر نہیں جو جلوۂ یوسف نہیں سہی ...

    مزید پڑھیے

    کہیں آنے کے ہیں نہ جانے کے

    کہیں آنے کے ہیں نہ جانے کے ہم ہیں نقش قدم زمانے کے تیلیاں جب قفس کی ٹوٹی ہیں کام آئی ہیں آشیانے کے کس قدر زندگی سے ملتے ہیں چند حصے مرے فسانے کے آج تک خواب کا سا عالم ہے خواب دیکھے تھے کس زمانے کے چند آنسو متاع دیدہ و دل نذر غم ہو گئے زمانے کے زلف برہم ہے آپ کس کے لئے ہو رہے ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے بتوں کو رام کیا تم نے کیا کیا

    ہم نے بتوں کو رام کیا تم نے کیا کیا ہم نے خیال خام کیا تم نے کیا کیا ہم نے تو پائے نازک جاناں پہ جان دی سجدہ کیا قیام کیا تم نے کیا کیا دیوانگی میں ہوش کی باتیں کیا کئے ہم نے یہ اہتمام کیا تم نے کیا کیا گہرے ہیں گھاؤ دل کے پہ تم سے گلہ نہیں یہ تو زباں نے کام کیا تم نے کیا کیا کس ...

    مزید پڑھیے