کہیں آنے کے ہیں نہ جانے کے

کہیں آنے کے ہیں نہ جانے کے
ہم ہیں نقش قدم زمانے کے


تیلیاں جب قفس کی ٹوٹی ہیں
کام آئی ہیں آشیانے کے


کس قدر زندگی سے ملتے ہیں
چند حصے مرے فسانے کے


آج تک خواب کا سا عالم ہے
خواب دیکھے تھے کس زمانے کے


چند آنسو متاع دیدہ و دل
نذر غم ہو گئے زمانے کے


زلف برہم ہے آپ کس کے لئے
ہو رہے آئنے کے شانے کے


جو سنائے نہ جا سکیں شارقؔ
وہی افسانے ہیں سنانے کے