اسیر شام و سحر انقلاب پیدا کر

اسیر شام و سحر انقلاب پیدا کر
تو سینہ چاک سہی آفتاب پیدا کر


سکون دل کو فریب امید کیا کم ہے
جو تشنگی ہے مقدر سراب پیدا کر


کہاں وہ شوق کہاں وہ فریب کاریٔ شوق
کہیں سے پھر وہی عہد شباب پیدا کر


تڑپ تڑپ کے دل بے قرار رہ جائے
کچھ اور زلف سیہ پیچ و تاب پیدا کر


نہیں جو جلوۂ یوسف نہیں سہی شارقؔ
نظر فریب زلیخا کا خواب پیدا کر