ہم نے بتوں کو رام کیا تم نے کیا کیا

ہم نے بتوں کو رام کیا تم نے کیا کیا
ہم نے خیال خام کیا تم نے کیا کیا


ہم نے تو پائے نازک جاناں پہ جان دی
سجدہ کیا قیام کیا تم نے کیا کیا


دیوانگی میں ہوش کی باتیں کیا کئے
ہم نے یہ اہتمام کیا تم نے کیا کیا


گہرے ہیں گھاؤ دل کے پہ تم سے گلہ نہیں
یہ تو زباں نے کام کیا تم نے کیا کیا


کس سادگی سے کہتے ہیں مر جائیں اہل دل
ہم نے تو قتل عام کیا تم نے کیا کیا


وعدے کی صبح شام ہوئی پھر بھی تم نہ آئے
ہم نے سحر کو شام کیا تم نے کیا کیا


کیوں ناتمام رہ نہ گئی دل کی داستاں
قصہ کہاں تمام کیا تم نے کیا کیا


شارقؔ سلام اس نے لیا ہاں لیا ضرور
کس شخص کو سلام کیا تم نے کیا کیا