سفر کے ساتھ سفر کی کہانیاں ہوں گی
سفر کے ساتھ سفر کی کہانیاں ہوں گی ہر ایک موڑ پہ جادو بیانیاں ہوں گی غریب شہر سخن آشنا کو ترسیں گے ہم اہل غم کے لیے غم کی وادیاں ہوں گی تمام راستہ کانٹوں بھرا ہے سوچ بھی لے قدم قدم پہ یہاں بدگمانیاں ہوں گی بنے بنائے ہوئے راستوں کو ڈھونڈیں گے وہ جن کے ساتھ میں مردہ نشانیاں ہوں ...