Khaleel Tanveer

خلیل تنویر

  • 1944

خلیل تنویر کی غزل

    سفر کے ساتھ سفر کی کہانیاں ہوں گی

    سفر کے ساتھ سفر کی کہانیاں ہوں گی ہر ایک موڑ پہ جادو بیانیاں ہوں گی غریب شہر سخن آشنا کو ترسیں گے ہم اہل غم کے لیے غم کی وادیاں ہوں گی تمام راستہ کانٹوں بھرا ہے سوچ بھی لے قدم قدم پہ یہاں بدگمانیاں ہوں گی بنے بنائے ہوئے راستوں کو ڈھونڈیں گے وہ جن کے ساتھ میں مردہ نشانیاں ہوں ...

    مزید پڑھیے

    اوروں کی برائی کو نہ دیکھوں وہ نظر دے

    اوروں کی برائی کو نہ دیکھوں وہ نظر دے ہاں اپنی برائی کو پرکھنے کا ہنر دے وہ لوگ جو سورج کے اجالے میں چلے تھے کس راہ میں گم ہو گئے کچھ ان کی خبر دے اک عمر سے جلتے ہوئے صحراؤں میں گم ہوں کچھ دیر ٹھہر جاؤں گا دامان شجر دے اک خوف سا طاری ہے گھروں سے نہیں نکلے ترسی ہوئی آنکھوں کو ...

    مزید پڑھیے

    رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے

    رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے کل تک جہاں میں جن کو کوئی پوچھتا نہ تھا اس شہر بے چراغ میں وہ معتبر ہوئے بڑھنے لگی ہیں اور زمانوں کی دوریاں یوں فاصلے تو آج بہت مختصر ہوئے دل کے مکاں سے خوف کے سائے نہ چھٹ سکے رستے تو دور دور تلک بے خطر ہوئے اب کے ...

    مزید پڑھیے

    سیاہ خانۂ دل پر نظر بھی کرتا ہے

    سیاہ خانۂ دل پر نظر بھی کرتا ہے میری خطاؤں کو وہ درگزر بھی کرتا ہے پرند اونچی اڑانوں کی دھن میں رہتا ہے مگر زمیں کی حدوں میں بسر بھی کرتا ہے تمام عمر کے دریا کو موڑ دیتا ہے وہ ایک حرف جو دل پر اثر بھی کرتا ہے وہ لوگ جن کی زمانہ ہنسی اڑاتا ہے اک عمر بعد انہیں معتبر بھی کرتا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2