Khaleel Tanveer

خلیل تنویر

  • 1944

خلیل تنویر کی غزل

    یہ کیسی پیاس ہے میں جسم کے سراب میں ہوں

    یہ کیسی پیاس ہے میں جسم کے سراب میں ہوں نکل کے جاؤں کدھر کیسے اضطراب میں ہوں چٹان سر پہ لیے پھر رہا ہوں صدیوں سے جنم جنم سے نہ جانے میں کس عذاب میں ہوں تو مجھ کو بھولنا چاہے تو بھول سکتا ہے میں ایک حرف تمنا تری کتاب میں ہوں میں کیا ہوں کون ہوں کیا چیز مجھ میں مضمر ہے کئی حجاب ...

    مزید پڑھیے

    مرے وجود میں تھے دور تک اندھیرے بھی

    مرے وجود میں تھے دور تک اندھیرے بھی کہیں کہیں پہ چھپے تھے مگر سویرے بھی نکل پڑے تھے تو پھر راہ میں ٹھہرتے کیا یوں آس پاس کئی پیڑ تھے گھنیرے بھی یہ شہر سبز ہے لیکن بہت اداس ہوئے غموں کی دھوپ میں جھلسے ہوئے تھے ڈیرے بھی حدود شہر سے باہر بھی بستیاں پھیلیں سمٹ کے رہ گئے یوں جنگلوں ...

    مزید پڑھیے

    بہت فساد چھپا تھا لہو کی گردش میں

    بہت فساد چھپا تھا لہو کی گردش میں بکھر کے خاک ہوئے اک ذرا سی لغزش میں پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں وہ ہاتھ کیا ہوئے تعمیر رائیگاں نکلی مکان گر گئے موسم کی پہلی بارش میں جو قتل و خون کی آندھی چلی تو تھمتی کیا سبھی شریک تھے بستی کے لوگ سازش ...

    مزید پڑھیے

    جو اپنا غم ہے اسے آئینہ دکھاؤں میں

    جو اپنا غم ہے اسے آئینہ دکھاؤں میں بس ایک قطرے میں دریا سمیٹ لاؤں میں تری نگاہ تو خوش منظری پہ رہتی ہے تیری پسند کے منظر کہاں سے لاؤں میں جو دل کی حسرت تعمیر ہے سو اتنی ہے کہ ہو سکے تو کسی دل میں گھر بناؤں میں میں جانتا ہوں اندھیروں کی زندگی کیا ہے بجھے چراغ تو دل کا دیا جلاؤں ...

    مزید پڑھیے

    حسد کی آگ تھی اور داغ داغ سینہ تھا

    حسد کی آگ تھی اور داغ داغ سینہ تھا دلوں سے دھل نہ سکا وہ غبار کینہ تھا ذرا سی ٹھیس لگی تھی کہ چور چور ہوا ترے خیال کا پیکر بھی آبگینہ تھا رواں تھی کوئی طلب سی لہو کے دریا میں کہ موج موج بھنور عمر کا سفینہ تھا وہ جانتا تھا مگر پھر بھی بے خبر ہی رہا عجیب طور تھا اس کا عجب قرینہ ...

    مزید پڑھیے

    وہاں پہنچ کے ہر اک نقش غم پرایا تھا

    وہاں پہنچ کے ہر اک نقش غم پرایا تھا وہ راستہ کہ جہاں حوصلہ بھی ہارا تھا بہت عزیز تھے اس کو سفر کے ہنگامے وہ سب کے ساتھ چلا تھا مگر اکیلا تھا وہ زخم زخم تھا تیرہ شبی کے دامن میں لبوں پہ پھول نظر میں کرن بھی رکھتا تھا عجیب شخص تھا اس کو سمجھنا مشکل ہے کنارے آب کھڑا تھا مگر وہ پیاسا ...

    مزید پڑھیے

    پرائی آگ میں جلنے کی آرزو ہے وہی

    پرائی آگ میں جلنے کی آرزو ہے وہی بدل گیا ہے مگر وحشتوں کی خو ہے وہی وہ شہر چھوڑ کے مدت ہوئی چلا بھی گیا حد افق پہ مگر چاند روبرو ہے وہی زمانہ لاکھ ستاروں کو چھو کے آ جائے ابھی دلوں کو مگر حاجت رفو ہے وہی قریب تھا تو سبھی اس سے بے خبر تھے مگر چلا گیا ہے تو موضوع گفتگو ہے وہی

    مزید پڑھیے

    بجھ گیا دل تو خبر کچھ بھی نہیں

    بجھ گیا دل تو خبر کچھ بھی نہیں عکس آئینے نظر کچھ بھی نہیں شب کی دیوار گری تو دیکھا نوک نشتر ہے سحر کچھ بھی نہیں جب بھی احساس کا سورج ڈوبے خاک کا ڈھیر بشر کچھ بھی نہیں ایک پل ایسا کہ دنیا بدلے یوں تو صدیوں کا سفر کچھ بھی نہیں حرف کو برگ نوا دیتا ہوں یوں مرے پاس ہنر کچھ بھی نہیں

    مزید پڑھیے

    دور تک ایک سیاہی کا بھنور آئے گا

    دور تک ایک سیاہی کا بھنور آئے گا خود میں اترو گے تو ایسا بھی سفر آئے گا آنکھ جو دیکھے گی دل اس کو نہیں مانے گا دل جو دیکھے گا وہ آنکھوں میں ابھر آئے گا اپنے احساس کا منظر ہی بدل جائے گا آنکھ جھپکے گی تو کچھ اور نظر آئے گا اور چلنا ہے تو بے خوف و خطر نکلو بھی نہ کسی ابر کا سایہ نہ ...

    مزید پڑھیے

    عکس تھے آواز تھی لیکن کوئی چہرا نہ تھا

    عکس تھے آواز تھی لیکن کوئی چہرا نہ تھا ناچتے گاتے قدم تھے اور کوئی پہرا نہ تھا حادثوں کی مار سے ٹوٹے مگر زندہ رہے زندگی جو زخم بھی تو نے دیا گہرا نہ تھا خواب کی مانند گزریں کیسی کیسی صورتیں دل کے ویرانے میں کوئی عکس بھی ٹھہرا نہ تھا آگ کی بارش ہوئی منظر جھلس کر رہ گئے شام کے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2