Kanval Malik

کنول ملک

کنول ملک کی غزل

    مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ

    مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ اف مقدر میں کب لکھا تھا وہ میں گئی حال دل سنانے کو اور رش میں گھرا ہوا تھا وہ جس کو ترسی رہیں مری آنکھیں سامنے ہی کھڑا ہوا تھا وہ جس کی خاطر سنور کے آئی میں اک نظر بھی نہ دیکھتا تھا وہ اس کے چہرے کو پڑھ رہی تھی میں ایک کاغذ پہ لکھ رہا تھا وہ دل کی ...

    مزید پڑھیے

    مرا بچھڑا رانجھن موڑ سجن

    مرا بچھڑا رانجھن موڑ سجن مجھے چاہ نہ کوئی اور سجن میں نے اوڑھا رنگ سیاہ فقط دئے کنگن چوڑی توڑ سجن میں نے تجھ سے سچا عشق کیا دی ساری دنیا چھوڑ سجن تری یاد سے باہر نکلوں میں مجھے آ کر یوں جھنجھوڑ سجن میں ہر درگاہ پہ جاؤں گی ہو سندھ ہو یا لاہور سجن کوئی دھاگا تجھ سے جوڑے تو منت ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2