مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ
مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ اف مقدر میں کب لکھا تھا وہ میں گئی حال دل سنانے کو اور رش میں گھرا ہوا تھا وہ جس کو ترسی رہیں مری آنکھیں سامنے ہی کھڑا ہوا تھا وہ جس کی خاطر سنور کے آئی میں اک نظر بھی نہ دیکھتا تھا وہ اس کے چہرے کو پڑھ رہی تھی میں ایک کاغذ پہ لکھ رہا تھا وہ دل کی ...