Javaid Anwar

جاوید انور

جاوید انور کی نظم

    کہاں روزن بنائیں

    وہی قسمیں شب نا معتبر کی وہی رسمیں ہیں شہر سنگ دل کی وہی دیوار‌ بے روزن کہ جس کو زبانیں دن ڈھلے تک چاٹتی ہیں کسے پوچھیں برون صحن کیا ہے کہاں کس کھیت میں گندم اگی ہے کہاں کس جھیل میں سورج گرا ہے کہاں ہیں تیری زرہیں میری ڈھالیں کہاں وہ چاند ہے جس کی طلب میں خلا میں پھینک دیں چہروں ...

    مزید پڑھیے

    مراجعت

    شام ہو عام سی شام ہو جس کی حد بندیوں میں قفس بھی ہوں اور آشیاں بھی ہواؤں کی آہٹ پہ کھلتے دریچے بھی ہوں آئینوں میں گھرے ننھے منے پرندوں کا رقص دم واپسیں ہر نفس پر بہ پر یورش رائیگاں بھی عام سی شام ہو لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیں گھر کی دہلیز پر میری ماں مسکراتے ہوئے میرے ...

    مزید پڑھیے

    اشکوں میں دھنک

    اس ریتیلے بدن کی جھلسی ہوئی رگوں میں ہے تیل کا تماشہ اور برف کی تہوں میں ہے سورجوں کا گریہ یا پانیوں کی دہشت یا خشک سالیاں ہیں مہتاب سے ٹپکتا تاریکیوں کا لاوا رخسار داغتا ہے اس صبح کا ستارا چڑیوں کے گھونسلوں میں بارود بانٹتا ہے ان چوٹیوں پہ پرچم انجان وادیوں کے اور وادیوں پہ ...

    مزید پڑھیے

    مجھے شام آئی ہے شہر میں

    میں سفر میں ہوں مرے جسم پر ہیں ہزار رنگوں کی یورشیں کہیں سرخ پھول کھلا ہوا کہیں نیل ہے کہیں سبز رنگ ہے زہر کا مگر آئنہ شب شہر کا مری ڈھال ہے جو وصال ہے وہی اصل ہجر مثال ہے مرے سامنے وہی راستے وہی بام و در وہی سنگ ہیں وہی سولیاں مجھے شام آئی ہے شہر میں مجھے شام آئی ہے شہر میں جہاں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2