کہاں روزن بنائیں
وہی قسمیں شب نا معتبر کی وہی رسمیں ہیں شہر سنگ دل کی وہی دیوار بے روزن کہ جس کو زبانیں دن ڈھلے تک چاٹتی ہیں کسے پوچھیں برون صحن کیا ہے کہاں کس کھیت میں گندم اگی ہے کہاں کس جھیل میں سورج گرا ہے کہاں ہیں تیری زرہیں میری ڈھالیں کہاں وہ چاند ہے جس کی طلب میں خلا میں پھینک دیں چہروں ...