پل بھر کا مہمان
کون آیا ہے یہ کس نے پھونک کر رکھے قدم دہلیز پر چپ چاپ چوروں کی طرح رات کی تاریکیوں میں سرسراہٹ سانپ کی سانس کو سینے کے اندر روک لو سن نہ لے قدموں کی آہٹ دل کی دھڑکن کو کہو چپ سادھ لے دل کا در وا تو نہ تھا پر وہ تو دروازے سے اندر آ گیا اس نے دستک بھی نہ دی ایک سائے کی طرح ہے ساتھ ...