Ghalib Ahmad

غالب احمد

  • 1928

غالب احمد کی نظم

    پل بھر کا مہمان

    کون آیا ہے یہ کس نے پھونک کر رکھے قدم دہلیز پر چپ چاپ چوروں کی طرح رات کی تاریکیوں میں سرسراہٹ سانپ کی سانس کو سینے کے اندر روک لو سن نہ لے قدموں کی آہٹ دل کی دھڑکن کو کہو چپ سادھ لے دل کا در وا تو نہ تھا پر وہ تو دروازے سے اندر آ گیا اس نے دستک بھی نہ دی ایک سائے کی طرح ہے ساتھ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2