خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے
خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے دنیا سے مل کے دیکھ لے اپنے حساب سے اس دن اندھیری گلیوں میں ہوگا طلوع دن جس روز دھوپ چھنیو گے تم آفتاب سے پی لوں ذرا سی آگ تخیل انڈیل کر کچھ دھوپ چھاننا ہے غزل کے نقاب سے خوشبو نے تیری رنگ کثافت اڑا دیا راحت ملی ہوا کو ذرا اس عذاب سے دل توڑنے کا ...