فاروق انجم کی غزل

    خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے

    خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے دنیا سے مل کے دیکھ لے اپنے حساب سے اس دن اندھیری گلیوں میں ہوگا طلوع دن جس روز دھوپ چھنیو گے تم آفتاب سے پی لوں ذرا سی آگ تخیل انڈیل کر کچھ دھوپ چھاننا ہے غزل کے نقاب سے خوشبو نے تیری رنگ کثافت اڑا دیا راحت ملی ہوا کو ذرا اس عذاب سے دل توڑنے کا ...

    مزید پڑھیے

    جو بیٹھو سوچنے ہر زخم دل کسکتا ہے

    جو بیٹھو سوچنے ہر زخم دل کسکتا ہے غزل کہو تو قلم سے لہو ٹپکتا ہے میں اب بھی روتا ہوں محرومیوں پہ بچپن کی کھلونے دیکھ کے دل آج بھی ہمکتا ہے فضا میں خوف ہوا بولنے نہیں دیتا زمیں پہ آ کے پرندہ بہت چہکتا ہے تمہارا لہجہ تو دریا ہے بہتے پانی کا یہ آگ بن کے سمندر میں کیوں بھڑکتا ...

    مزید پڑھیے

    یہ وقت زندگی کی ادائیں بھی لے گیا

    یہ وقت زندگی کی ادائیں بھی لے گیا قصے کہانیوں کی سبھائیں بھی لے گیا اس نے تمام شہر کو گونگا بنا دیا میرے دہن سے میری صدائیں بھی لے گیا موسم لگا کے زخم گیا شاخ شاخ پر پیڑوں سے پھولوں والی ردائیں بھی لے گیا سورج نے ڈوبتے ہوئے ہم کو سزا یہ دی جسموں سے روشنی کی قبائیں بھی لے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2