سمندروں کو بھی دریا سمجھ رہے ہیں ہم
سمندروں کو بھی دریا سمجھ رہے ہیں ہم یہ اپنے آپ کو اب کیا سمجھ رہے ہیں ہم ہماری راہ میں حائل جو اک اندھیرا ہے اسے بھی اپنا ہی سایہ سمجھ رہے ہیں ہم یہیں تلک ہے رسائی ہماری آنکھوں کی کہ خد و خال کو چہرہ سمجھ رہے ہیں ہم ہماری بات کسی کی سمجھ میں کیوں آتی خود اپنی بات کو کتنا سمجھ رہے ...