Bharat Bhushan Pant

بھارت بھوشن پنت

ہندوستان میں ہم عصر غزل کے ممتاز شاعر

One of the most prominent contemporary ghazal poets in India

بھارت بھوشن پنت کی غزل

    سمندروں کو بھی دریا سمجھ رہے ہیں ہم

    سمندروں کو بھی دریا سمجھ رہے ہیں ہم یہ اپنے آپ کو اب کیا سمجھ رہے ہیں ہم ہماری راہ میں حائل جو اک اندھیرا ہے اسے بھی اپنا ہی سایہ سمجھ رہے ہیں ہم یہیں تلک ہے رسائی ہماری آنکھوں کی کہ خد و خال کو چہرہ سمجھ رہے ہیں ہم ہماری بات کسی کی سمجھ میں کیوں آتی خود اپنی بات کو کتنا سمجھ رہے ...

    مزید پڑھیے

    اندھیرا مٹتا نہیں ہے مٹانا پڑتا ہے

    اندھیرا مٹتا نہیں ہے مٹانا پڑتا ہے بجھے چراغ کو پھر سے جلانا پڑتا ہے یہ اور بات ہے گھبرا رہا ہے دل ورنہ غموں کا بوجھ تو سب کو اٹھانا پڑتا ہے کبھی کبھی تو ان اشکوں کی آبرو کے لیے نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرانا پڑتا ہے اب اپنی بات کو کہنا بہت ہی مشکل ہے ہر ایک بات کو کتنا گھمانا پڑتا ...

    مزید پڑھیے

    دانستہ جو ہو نہ سکے نادانی سے ہو جاتا ہے

    دانستہ جو ہو نہ سکے نادانی سے ہو جاتا ہے آگ کا دریا پار بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے حد نظر تک اک تنہائی خاک اڑاتی پھرتی ہے صحرا بے بس اپنی ہی ویرانی سے ہو جاتا ہے جتنی عمر سرابوں کا پیچھا کرنے میں گزرتی ہے اتنا گہرا پیاس کا رشتہ پانی سے ہو جاتا ہے گھر سے نکلنا بھی مشکل ہے گھر میں ...

    مزید پڑھیے

    ثواب ہے یا کسی جنم کا حساب کوئی چکا رہا ہوں

    ثواب ہے یا کسی جنم کا حساب کوئی چکا رہا ہوں جو گھر کے آنگن میں چینوٹیوں کو میں روز آٹا کھلا رہا ہوں میں رقص کرتا ہوا بگولا جو دشت جاں میں بھٹکا چکا ہے اب اپنی سانسوں کی آندھیوں سے بس اپنی مٹی اڑا رہا ہوں وہ منزلیں کیا یہ راستے بھی مجھی کو لے کر بھٹک گئے ہیں نہ چل رہا ہوں نہ رک رہا ...

    مزید پڑھیے

    آئینے سے پردا کر کے دیکھا جائے

    آئینے سے پردا کر کے دیکھا جائے خود کو اتنا تنہا کر کے دیکھا جائے ہم بھی تو دیکھیں ہم کتنے سچے ہیں خود سے بھی اک وعدہ کر کے دیکھا جائے دیواروں کو چھوٹا کرنا مشکل ہے اپنے قد کو اونچا کر کے دیکھا جائے راتوں میں اک سورج بھی دکھ جائے گا ہر منظر کو الٹا کر کے دیکھا جائے دریا نے بھی ...

    مزید پڑھیے

    عشق کا روگ تو ورثے میں ملا تھا مجھ کو

    عشق کا روگ تو ورثے میں ملا تھا مجھ کو دل دھڑکتا ہوا سینے میں ملا تھا مجھ کو ہاں یہ کافر اسی حجرے میں ملا تھا مجھ کو ایک مومن جہاں سجدے میں ملا تھا مجھ کو اس کو بھی میری طرح اپنی وفا پر تھا یقیں وہ بھی شاید اسی دھوکے میں ملا تھا مجھ کو اس نے ہی بزم کے آداب سکھائے تھے مجھے وہ جو اک ...

    مزید پڑھیے

    کہیں جیسے میں کوئی چیز رکھ کر بھول جاتا ہوں

    کہیں جیسے میں کوئی چیز رکھ کر بھول جاتا ہوں پہن لیتا ہوں جب دستار تو سر بھول جاتا ہوں وگرنہ تو مجھے سب یاد رہتا ہے سوا اس کے کہاں ہوں کون ہوں کیوں ہوں میں اکثر بھول جاتا ہوں مرے اس حال سے گمراہ ہو جاتے ہیں رہبر بھی میں اکثر راستے میں اپنا ہی گھر بھول جاتا ہوں دکھاتا پھر رہا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    مری ہی بات سنتی ہے مجھی سے بات کرتی ہے

    مری ہی بات سنتی ہے مجھی سے بات کرتی ہے کہاں تنہائی گھر کی اب کسی سے بات کرتی ہے ہمیشہ اس کی باتوں میں اندھیروں کا وہی رونا یہ شب جب بھی دیئے کی روشنی سے بات کرتی ہے میں جب مایوس ہو کر راستے میں بیٹھ جاتا ہوں تو ہر منزل مری آوارگی سے بات کرتی ہے سکوت شب میں جب سارے مسافر سوئے ہوتے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نہ کچھ سلسلہ ہی بن جاتا

    کچھ نہ کچھ سلسلہ ہی بن جاتا ریت پر نقش پا ہی بن جاتا کس نے کاغذ پہ لکھ دیا مجھ کو اس سے بہتر صدا ہی بن جاتا زندگی کی ردیف مشکل تھی میں فقط قافیہ ہی بن جاتا اشک کچھ دیر کو ہی تھم جاتے کام بگڑا ہوا ہی بن جاتا کشتیاں تو خدا چلاتا ہے کاش میں ناخدا ہی بن جاتا کیا ملا مجھ کو نیکیوں کا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4