بہاروں میں بھی جلتے آشیاں دیکھے نہیں جاتے
بہاروں میں بھی جلتے آشیاں دیکھے نہیں جاتے دہکتے گل سلگتے گلستاں دیکھے نہیں جاتے نکل کر بزم گل سے نکہتیں آوارہ پھرتی ہیں فضاؤں میں بھٹکتے کارواں دیکھے نہیں جاتے یہاں انسان سے انساں تو ہیں سہمے ہوئے لیکن خدا سے بھی یہ بندے بد گماں دیکھے نہیں جاتے نمازیں چیختی ہیں مسجدیں فریاد ...