نکھرے ہوئے عارض ہیں بکھرے ہوئے گیسو بھی

نکھرے ہوئے عارض ہیں بکھرے ہوئے گیسو بھی
اے اہل نظر دیکھو جلوہ بھی ہے جادو بھی


موسم کی طرح ان کے تیور بھی بدلتے ہیں
پھر جاتی ہیں نظریں بھی تن جاتے ہیں ابرو بھی


اظہار تمنا پر ہنس ہنس کے نہیں کہنا
انکار میں شامل ہے اقرار کا پہلو بھی


اے عشق بتا تو ہی یہ کون سا عالم ہے
ہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں ہیں آنسو بھی


گلشن میں بھی دیوانو صحرا کے مزے لوٹو
گردش میں ہے بزم گل آوارہ ہے خوشبو بھی


سچ ہے کہ مرا دامن آلودہ ہے اے واعظ
یہ جھوٹ نہیں لیکن بے داغ نہیں تو بھی


ارباب سیاست سے کہنا ہے شہیدؔ اتنا
ارباب محبت کا شہکار ہے اردو بھی