بہاروں میں بھی جلتے آشیاں دیکھے نہیں جاتے
بہاروں میں بھی جلتے آشیاں دیکھے نہیں جاتے
دہکتے گل سلگتے گلستاں دیکھے نہیں جاتے
نکل کر بزم گل سے نکہتیں آوارہ پھرتی ہیں
فضاؤں میں بھٹکتے کارواں دیکھے نہیں جاتے
یہاں انسان سے انساں تو ہیں سہمے ہوئے لیکن
خدا سے بھی یہ بندے بد گماں دیکھے نہیں جاتے
نمازیں چیختی ہیں مسجدیں فریاد کرتی ہیں
عقیدت کو ترستے آستاں دیکھے نہیں جاتے
یقین دوستی ہو تو صداقت دیکھ سکتے ہیں
مگر وہموں کے پردے درمیاں دیکھے نہیں جاتے
بڑی دلچسپ سرگرمی ہے بازار سیاست کی
مگر بکتے ہوئے ایماں یہاں دیکھے نہیں جاتے
شہیدؔ اہل خرد کی دوراندیشی بجا لیکن
امید و بیم کے سود و زیاں دیکھے نہیں جاتے