عطاالحسن کی غزل

    فاختہ شاخ سے اڑتے ہوئے گھبرائی تھی

    فاختہ شاخ سے اڑتے ہوئے گھبرائی تھی جب پرندوں کے بلکنے کی صدا آئی تھی آبلے میری زباں پر ہیں تو حیرت کیسی میں نے اک بار تری جھوٹی قسم کھائی تھی کب یہ سوچا تھا برابر سے گزر جائے گا میری جس شخص سے برسوں کی شناسائی تھی اب وہ کہتا ہے کہ زنجیر بنی میرے لیے اس کے پیروں میں جو پائل کبھی ...

    مزید پڑھیے

    تمہارے ہجر کا صدقہ اتار پھینکتا ہے

    تمہارے ہجر کا صدقہ اتار پھینکتا ہے دلیر شخص ہے خواہش کو مار پھینکتا ہے بڑے بڑوں کو ٹھکانے لگا دیا اس نے یہ عشق لاش بھی صحرا کے پار پھینکتا ہے یہ کیسے شخص کے ہاتھوں میں دے دیا خود کو فلک کی سمت مجھے بار بار پھینکتا ہے میں جانتا ہوں محبت کی فصل بوئے گا زمیں پہ اشک جو زار و قطار ...

    مزید پڑھیے

    شوق نظر گلاب سے بھی مطمئن نہیں

    شوق نظر گلاب سے بھی مطمئن نہیں چشم اداس خواب سے بھی مطمئن نہیں کس عمر میں نہ جانے قناعت پسند ہو یہ دل کہ دستیاب سے بھی مطمئن نہیں اب تیرے خد و خال پہ کیا اکتفا کرے یہ آنکھ ماہتاب سے بھی مطمئن نہیں بس یوں ہی بے قراری کی لت میں ہوں مبتلا ویسے میں اضطراب سے بھی مطمئن نہیں میرے ...

    مزید پڑھیے

    فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی

    فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی تو نہیں مجھ کو میسر تو یہ دنیا ہی سہی میں کسی رحم و کرم پر تو نہیں تیری طرح زیست کی راہ پہ اب چاہے میں تنہا ہی سہی قریۂ غیر میں الفاظ کا دم گھٹتا ہے فرط اظہار کے پل اپنا علاقہ ہی سہی پہلے بڑھ چڑھ کے محبت میں کیا وقت بسر اب زبوں حالیٔ جذبات میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2