اب تو یہ سوچ کے بھی دل مرا گھبراتا ہے

اب تو یہ سوچ کے بھی دل مرا گھبراتا ہے
صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آتا ہے


ایک اک کرکے بجھے جاتے ہیں رخشندہ نجوم
ایک تو ہے جو بہ ہر سمت نظر آتا ہے


اب ترا خواب بھی اک پیکر سیمیں کی طرح
آسمانوں سے مرے دل میں اتر آتا ہے


لذت سنگ کی خاطر ہی بیاباں سے کوئی
چھوڑ کر باغ سر راہ گزر آتا ہے


دل کی دہلیز سے جاتا ہے جو اک مرمریں جسم
ہر طرف گھوم کے با دیدۂ تر آتا ہے


جسم تھک کر بھی نہیں راہ میں رکتا پل بھر
دل مگر اس کے شبستاں میں ٹھہر آتا ہے