آساں ہر ایک ہو گئی مشکل مرے لئے

آساں ہر ایک ہو گئی مشکل مرے لئے
جس دن سے محترم ہوا قاتل مرے لئے


میں وحشتوں میں دشت و بیاباں کی ہو گئی
مدت سے ملتمس ہے مرا دل مرے لئے


یوں راستوں سے ان دنوں دلچسپیاں بڑھیں
قدموں کی خاک ہو گئی منزل مرے لئے


آسانیاں نظر کو بچا کر چلی گئیں
ٹھہرے رہے تمام مسائل مرے لئے


آواز میرے حق میں یہ کس نے اٹھائی ہے
اس بھیڑ میں یہ کون ہے عادل مرے لئے


یہ اور بات ہے کہ تجھے کچھ خبر نہیں
میناؔ ترا خیال ہے کامل مرے لئے