آرزو ہے بہت کنارے کی
آرزو ہے بہت کنارے کی
دیر ہے بس تیرے اشارے کی
وہ یہاں آئے اور چلے بھی گئے
کیا ضرورت تھی نام چارے کی
اے ہواؤ ادھر نہ لے جاؤ
میں لہر ہوں اسی کنارے کی
چاند کا نام دیجیے نہ مجھے
صرف پرچھائیں ہوں ستارے کی
زندگی کیا ہے کچھ نہیں ہے بس
ایک تصویر ہے شرارے کی
میری حالت بھی آج ایسی ہے
جیسی گردش میں اک ستارے کی