انوکھی سزا

اکیڈمی  میں بارہویں جماعت کا کیمسٹری کا لیکچر شروع ہوا۔ سر بورڈ کے پاس آئے، نہایت تاسف سے انہوں نے مارکر کو اپنی کرسی پر پھینکا، اور گھمبیر لہجے میں گویا ہوئے۔

 

"بیٹا آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے، یہ اکیڈمی ایک تعلیمی ادارہ  اورآپ کی مادر علمی ہے۔ ایک مقدس جگہ، جیسے ماں کا آنچل مقدس ہوتا ہے۔ مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ "بوتھ بوائز اینڈ گرلز" آپ نے اسے فحاشی کا اڈہ بنایا ہوا ہے۔"

 

"یار یہ تو سیدھا ہی ہو ہوگیا ہے۔"

یہ کہتے ہوئے آخری بینچ پر بیٹھے تین لڑکوں میں سے ایک بینچ سے اتر کر زمیں پر بیٹھ گیا، اور دو نے اپنا منہ ڈیسک کے اندر چھپا لیا۔ شاید شرارتی ہونے کے باوجود ان میں ابھی تھوڑی شرم باقی تھی۔

اس کے بعد سر نے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ایک اصلاحی لیکچر شروع کیا جس میں انھوں نے تعلیمی اداروں میں ہونے والی حرکات کے نتائج    سے بچوں کو آگاہ کیا۔ اس لیکچر کا وہ حصہ جو لڑکوں سے متعلق تھا ، اس کا احوال کچھ یوں ہے۔

لڑکوں سے مخاطب ہوکر وہ یوں گویا ہوئے: "بیٹا کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپکا سیشن آخری سیشن ہے؟ آپ کے بعد یہاں کوئی نہیں آنے والا؟

یقیناً ایسا نہیں ہے، ہر سال بینچ یہی رہتے ہیں بچے بدل جاتے ہیں۔ اگلے سال آپ یہاں نہیں ہوں گے یہ لڑکیاں یہاں نہیں ہوں گی، ان کی جگہ کچھ نئے لڑکے اور لڑکیاں ہوں گی، وہ وہی حرکتیں کریں گے جو آج آپ یہاں کرتے ہیں۔ اس دن کو تصور کریں جس دن آپ کی جگہ یہاں کوئی اور لڑکا ہو اور لڑکیوں کہ جگہ آپ کے گھر کی کوئی فرد بیٹھی ہو۔ کیا اب بھی آپ مطمئن ہیں اپنی حرکات پر؟"

بیٹا میں آپکو بتاتا ہوں میں نے ایسے لوگ دیکھیں ہیں جو بہت عیاش ہوا کرتے تھے۔ میرے اپنے دوستوں میں سے ہیں "آج وہ اپنی بیٹی کو اس بات پر ڈانٹ رہے ہوتے ہیں کہ تم یہاں ہنس کیوں رہی ہو؟ گلی میں گھستے ہی انکی نگاہ اپنی کھڑکی کی طرف اس خدشے سے جاتی ہے کہ کہیں بیٹی کھڑکی میں تو نہیں کھڑی۔ کسی انجان لڑکے کو گلی میں دیکھ کر وہ بے چین ہوجاتے ہیں۔

اس لڑکی کو پتا ہی نہیں کہ اس بیچاری کا قصور کیا ہے۔اسکا اپنا باپ اس پر شک کیوں کرتا ہے۔ اس دن سے ڈریں جس دن آپ اپنی بیٹی یا بہن کو (جو بہت نیک ہو) اپنے کئے ہوئے جرموں کی سزا دینے پر مجبور ہوجائیں؟

اور بیٹا ایسا ہی ہوتا ہے، یہی مکافات عمل ہے۔ اس دن سے بچیں، جس دن آپ ذہنی مریض بن جائیں اور اپنی پاک باز گھر والیوں پر شک کریں، یاد رکھیں آپکی زندگی اور آخرت دونوں جہنم بن جائیں گی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ اسی لیے آپکو سمجھا رہا ہوں۔

آخری بینچ پر بیٹھے ان تین بچوں میں جو سب سے زیادہ شرارتی تھا، اس نے اپنے دوستوں سے کہا "یار سر نے آج بات بہت پتے کی کہی ہے، ہم تین بھائی ہیں، اس لیے مجھے کبھی احساس نہیں ہوا، مگر میری کوئی بہن ہوتی تو میں بہت نیک ہوتا۔" کسی منچلے نے کہا " کیا تمہیں یقین ہے کہ تمہاری بیٹی بھی نہ ہوگی؟"

 

اس دن اس آخری بینچ پر صرف خاموشی تھی، شرارت ان سے رخصت ہوچکی تھی۔۔