وارفتگیٔ شوق جنوں درمیان تھی
وارفتگیٔ شوق جنوں درمیان تھی
ورنہ یہ داستاں بھی کوئی داستان تھی
گھر سے ملا ہوا تھا کوئی گھر تو کیا ہوا
دیوار اک انا کی وہ جو درمیان تھی
وہ فکر تھی کہ دھیان تھا یا اک خیال تھا
دل کے تخیلات کی اونچی اڑان تھی
پر باندھ کے مرے مجھے مجبور کر دیا
جب یہ زمین میری مرا آسمان تھی
پانے کی آرزو کبھی کھونے کا رنج و غم
یہ زندگی نہیں تھی کوئی امتحان تھی
کاظمؔ زمیں کو اوڑھ کے چپ چاپ سو گئے
اک عمر کی ہمارے بدن پر تھکان تھی