دوستی یا تھی دشمنی میری

دوستی یا تھی دشمنی میری
زندگی سے نہیں بنی میری


حال ایسا نہیں کہ بتلاؤں
ایسی حالت نہ تھی کہ تھی میری


ہاتھ تھاما بھی اور چھوڑ دیا
جیب رستے میں کٹ گئی میری


آ گیا یاد اس کو کوئی کام
بیچ میں بات رہ گئی میری


وہ مری زندگی کا حاصل تھا
جس کو سمجھے تھے دل لگی میری


یا محبت کی لغزشیں تھیں بہت
یا تھی ان میں کوئی کمی میری


دل کے ویران دشت و صحرا میں
شور کرتی ہے خامشی میری


نہ ہوئی جو کبھی کسی سے بھی
وہ محبت تھی آخری میری


روز لکھتا ہوں اک نئی روداد
آپ بیتی ہے شاعری میری


اب بھی میں تم کو یاد آتا ہوں
اب بھی پڑھتی ہو شاعری میری


زندگی کا مآل اتنا ہے
عمر کٹنی تھی کٹ گئی میری


کیا ضروری تھا ہجر کا رستہ
یا اسی میں تھی بہتری میری


سو رہا تھا میں خواب کو اوڑھے
خواب میں آنکھ کھل گئی میری


بس میں اپنا نہیں رہا کاظمؔ
مجھ پے ہنستی ہے بے بسی میری